سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : التغليظ في قتل مسلم ظلما
باب: مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2618
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2618]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو (عبادت میں) شریک نہیں کرتا اور کسی حرام خون میں ملوث نہیں ہوتا تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9937، ومصباح الزجاجة: 927)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/148، 152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد مدلس و عنعن
ولأول الحديث شاھد عند البخاري (129) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد مدلس و عنعن
ولأول الحديث شاھد عند البخاري (129) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2618
| من لقي الله لا يشرك به شيئا لم يتند بدم حرام دخل الجنة |
سلسلہ احادیث صحیحہ |
17
| من لقي الله لا يشرك به شيئا لم يتند بدم حرام، دخل الجنة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2618 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2618
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شرک کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔
(2)
قتل کے جرم کا ارتکاب جہنم میں داخلے کا باعث ہے۔
(3)
جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام کاموں سےاجتناب کیا جائے جو جہنم کی سزا کاباعث بنتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
شرک کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔
(2)
قتل کے جرم کا ارتکاب جہنم میں داخلے کا باعث ہے۔
(3)
جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام کاموں سےاجتناب کیا جائے جو جہنم کی سزا کاباعث بنتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2618]
Sunan Ibn Majah Hadith 2618 in Urdu
عبد الرحمن بن عائذ الأزدي ← عقبة بن عامر الجهني