سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: مَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَرَضُوا بِالدِّيَةِ
باب: قتل عمد میں مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2625
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي وَعَمِّي وَكَانَا شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَهُوَ سَيِّدُ خِنْدِفٍ يَرُدُّ عَنْ دَمِ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ وَقَامَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ يَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ وَكَانَ أَشْجَعِيًّا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَقْبَلُونَ الدِّيَةَ"، فَأَبَوْا، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ: مُكَيْتِلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا شَبَّهْتُ هَذَا الْقَتِيلَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَغَنَمٍ وَرَدَتْ، فَرُمِيَتْ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ خَمْسُونَ فِي سَفَرِنَا، وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا" فَقَبِلُوا الدِّيَةَ.
زید بن ضمیرہ کہتے ہیں کہ میرے والد اور چچا دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ان دونوں کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے، تو قبیلہ خندف کے سردار اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، وہ محکلم بن جثامہ سے قصاص لینے کو روک رہے تھے، عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ اٹھے، وہ عامر بن اضبط اشجعی کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے ۱؎، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم دیت (خون بہا) قبول کرتے ہو“؟ انہوں نے انکار کیا، پھر بنی لیث کا مکیتل نامی شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! اسلام کے شروع زمانے میں یہ قتل میں ان بکریوں کے مشابہ سمجھتا تھا جو پانی پینے آتی ہیں، پھر جب آگے والی بکریوں کو تیر مارا جاتا ہے تو پیچھے والی اپنے آپ بھاگ جاتی ہیں، ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پچاس اونٹ (دیت کے) ابھی لے لو، اور بقیہ پچاس مدینہ لوٹنے پر لے لینا، لہٰذا انہوں نے دیت قبول کر لی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2625]
زیاد بن سعد بن ضمیرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے میرے والد (سعد بن ضمیرہ رضی اللہ عنہ) اور میرے چچا نے حدیث سنائی۔ یہ دونوں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے، ان دونوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ قبیلہ خندف کے سردار اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور محلم بن جثامہ کے قتل کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ بھی حاضر خدمت ہو کر قبیلہ اشجع کے فرد عامر بن اضبط کے قصاص کا مطالبہ کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کیا تم دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہو؟“ انہوں نے انکار کیا۔ قبیلہ بنو لیث کا ایک آدمی جسے مکیتل کہتے تھے، اس نے اٹھ کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم میں تو اسلام کے شروع زمانے کے اس مقتول کی مثال اس طرح سمجھتا ہوں جیسے بکریوں کا ریوڑ پانی پینے آیا، اس کو کنکر مارا گیا تو ریوڑ کا پچھلا حصہ بھاگ اٹھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ہمارے اس سفر میں پچاس اونٹ مل جائیں گے اور پچاس واپسی پر مل جائیں گے۔“ اس پر ان لوگوں نے دیت لینا منظور کر لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4503)، (تحفة الأشراف: 3824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/112، 6/10) (ضعیف)» (سند میں زید بن ضمیرہ مقبول ہیں، لیکن متابعت نہ ہونے سے سند ضعیف ہے)
وضاحت: ۱؎: محلم بن جثامہ نے قبیلہ اشجع کے عامر بن اضبط کو مار ڈالا تھا، تو اقرع رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ محلم سے قصاص نہ لیا جائے اور عیینہ رضی اللہ عنہ قصاص پر زور دیتے تھے۔
۲؎: اس تشبیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر (بشرط صحت حدیث) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو اس سے بہت بڑا دوسرا فساد اٹھ کھڑا ہوتا، مسلمان آپس میں لڑنے لگتے تو اس کا بندوبست ایسا ہوا جیسے بکریوں کا گلہ پانی پینے کو چلا لیکن آگے کی بکریوں کو مار کر وہاں سے ہٹا دیا گیا تو پیچھے کی بھی بکریاں بھاگ گئیں، اگر نہ مارتا تو پھر سب چلی آتیں، اسی طرح اگر آپ اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہو جاتے اور فساد عظیم ہوتا۔
۲؎: اس تشبیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر (بشرط صحت حدیث) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو اس سے بہت بڑا دوسرا فساد اٹھ کھڑا ہوتا، مسلمان آپس میں لڑنے لگتے تو اس کا بندوبست ایسا ہوا جیسے بکریوں کا گلہ پانی پینے کو چلا لیکن آگے کی بکریوں کو مار کر وہاں سے ہٹا دیا گیا تو پیچھے کی بھی بکریاں بھاگ گئیں، اگر نہ مارتا تو پھر سب چلی آتیں، اسی طرح اگر آپ اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہو جاتے اور فساد عظیم ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ عَمْدًا، دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَذَلِكَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قصداً کسی کو قتل کر دیا، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں، اور چاہیں تو دیت لے لیں، دیت (خوں بہا) میں تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، قتل عمد کی دیت یہی ہے، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا، اور سخت دیت یہی ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2626]
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر قتل کیا، اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو (قصاص کے طور پر) قتل کر دیں، چاہیں تو دیت لے لیں۔ اور دیت کی مقدار تین سالہ تیس اونٹنیاں، اور چار سالہ تیس اونٹنیاں اور چالیس حاملہ اونٹنیاں (کل تعداد سو) ہے۔ یہ قتلِ عمد کی دیت ہے۔ اگر (اس سے کم) کسی مقدار پر صلح ہو جائے تو انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ اور یہ سخت (مغلظہ) دیت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1387)، (تحفة الأشراف: 8708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 182، 183، 184، 185، 186) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: «حقہ» یعنی وہ اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں داخل ہو گئی ہو۔ «جذعہ» : یعنی وہ اونٹنی جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں داخل ہو گئی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن