سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الإِمْسَاكِ فِي الْحَيَاةِ وَالتَّبْذِيرِ عِنْدَ الْمَوْتِ
باب: زندگی میں بخیلی اور موت کے وقت فضول خرچی سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2706
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، وابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَبِّئْنِي مَا حَقُّ النَّاسِ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ: أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَبُوكَ"، قَالَ: نَبِّئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ مَالِي كَيْفَ أَتَصَدَّقُ فِيهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَاللَّهِ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَا هُنَا قُلْتَ: مَالِي لِفُلَانٍ وَمَالِي لِفُلَانٍ وَهُوَ لَهُمْ وَإِنْ كَرِهْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہارے والد کی قسم، تمہیں بتایا جائے گا، (سب سے زیادہ حقدار) تمہاری ماں ہے“، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہاری ماں ہے“، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی تمہاری ماں ہے“، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہارا باپ“ کہا: مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی حرص ہو، زندہ رہنے کی امید ہو، فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو، ایسا نہ کرو کہ تمہاری سانس یہاں آ جائے (تم مرنے لگو) تو اس وقت کہو: میرا یہ مال فلاں کے لیے اور یہ مال فلاں کے لیے ہے، اب تو یہ مال ورثاء کا ہے گرچہ تم نہ چاہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2706]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتائیے کہ میرے حسن سلوک کا مستحق کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے تیرے باپ (کے رب) کی! تجھے ضرور بتاؤں گا۔ تیری ماں (تیرے حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہے)۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تیری ماں۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تیری ماں۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے میرے مال کے بارے میں بتائیے کہ میں اس میں سے کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اللہ کی! تجھے ضرور بتاؤں گا۔ (وہ اس طرح ہے کہ) تو اس وقت صدقہ کرے جب تو تندرست ہو اور مال سے محبت رکھتا ہو، تجھے زندہ رہنے کی امید ہو اور فقر کا اندیشہ ہو۔ (یہ صدقہ کا صحیح وقت ہے) اور اسے مؤخر نہ کرنا حتی کہ جب تیری جان یہاں (حلق تک) پہنچ جائے، پھر تو کہے: میرا مال فلاں کو دے دینا، میرا مال فلاں کو بھی دے دینا۔ وہ تو انہی کا ہو چکا، اگرچہ تجھے یہ (حقیقت) ناگوار محسوس ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 2 (5971)، صحیح مسلم/البر والصلة 1 (2548)، (تحفة الأشراف: 14905)، وقد أخرجہ: مسند احمد2/391) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مرتے وقت وہ تمہارا مال ہی کہاں رہا جو تم کہتے ہو کہ میرا یہ مال فلاں اور فلاں کو دینا۔ جب آدمی بیمار ہوا اور موت قریب آ پہنچی تو دو تہائی مال پر وارثوں کا حق ہو گیا، اب ایک تہائی پر اختیار رہ گیا اس میں جو چاہے وہ کر لے، لیکن ایک تہائی سے زیادہ اگر صدقہ دے گا تو وہ صحیح نہ ہو گا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عادت کے طور پر غیر اللہ کی قسم کھانا منع نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم نے اس کے باپ کی قسم کھائی، اور بعضوں نے کہا یہ حدیث ممانعت سے پہلے کی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرمایا، نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں کے ساتھ باپ سے تین حصے زیادہ سلوک کرنا چاہئے کیونکہ ماں کا حق سب پر مقدم ہے، ماں نے بچہ کے پالنے میں جتنی تکلیف اٹھائی ہے اتنی باپ نے نہیں اٹھائی گو باپ کا حق بھی بہت بڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ زيادة نعم وأبيك لتنبأن وهي شهادة
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2707
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ، قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ".
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز (منی) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا“؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2707]
حضرت بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، پھر اپنی سبابہ انگلی (اس کی طرف اشارے کے طور پر) رکھی اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے، حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا فرمایا، پھر جب تیری جان یہاں پہنچ جاتی ہے، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا، تب تو کہتا ہے: میں صدقہ کرتا ہوں۔ اب صدقے کا وقت کہاں ہے؟“ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 2018، ومصباح الزجاجة: 960)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بلکہ صدقہ کا عمدہ وقت وہ ہے جب آدمی صحیح اور تندرست ہو، اور وہ مال کا محتاج ہو بہت دنوں تک جینے کی توقع ہو، لیکن ان سب باتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور اپنا عمدہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح