سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجِهَادِ
باب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2762
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نہ غزوہ کرے، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2762]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نہ جہاد کیا، نہ کسی مجاہد کو سامان مہیا کیا اور نہ کسی مجاہد کی غیر حاضری میں اس کے گھر والوں کی اچھی طرح خبر گیری کی تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت سے پہلے ہی کسی آفت میں مبتلا کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 18 (2503)، (تحفة الأشراف: 4897)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد 26 (2462) (حسن)» (تراجع الألبانی: رقم: 380)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2763
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ هُوَ إِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَلَيْسَ لَهُ أَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس پر جہاد فی سبیل اللہ کا کوئی نشان نہ ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس میں نقصان ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2763]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کا اللہ کی راہ (جہاد) میں کوئی اثر (یا حصہ) نہیں تو وہ اللہ سے عیب دار ہو کر ملتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1666)، (تحفة الأشراف: 12554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/160، 214) (ضعیف)» (سند میں ابو رافع ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1666)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
إسناده ضعيف
ترمذي (1666)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478