سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْجِهَادِ
باب: جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2764
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ:" وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے لوٹے، اور مدینہ کے نزدیک پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جس راہ پر تم چلے اور جس وادی سے بھی تم گزرے وہ تمہارے ہمراہ رہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: مدینہ میں رہ کر بھی وہ ہمارے ساتھ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مدینہ میں رہ کر بھی، عذر نے انہیں روک رکھا تھا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2764]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: ”مدینہ میں کچھ افراد ہیں کہ تم نے جو بھی سفر کیا، اور جو بھی وادی طے کی، وہ اس میں تمہارے ساتھ تھے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور وہ مدینہ میں ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) وہ مدینہ میں ہیں۔ انہیں کسی عذر نے روک لیا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 758)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 35 (2839)، صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، سنن ابی داود/الجہاد 20 (2508) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً بیماری وغیرہ تو ایسے شخص کو جہاد کا ثواب ملے گا جب اس کی نیت جہاد کی ہو، لیکن عذر کی وجہ سے مجبور ہو کر رک جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2765
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ كَمَا قَالَ: كَتَبْتُهُ لَفْظًا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے، انہیں عذر نے روک رکھا تھا“۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2765]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ افراد ہیں، تم نے جو وادی طے کی اور جس راستے پر چلے (ان سب میں) وہ تمہارے ساتھ ثواب میں شریک رہے (کیونکہ) انہیں عذر نے (جہاد میں جانے سے) روک دیا تھا۔“ امام ابوعبداللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: ”یا جس طرح شیخ (احمد بن سنان) نے کہا: میں نے اس حدیث کو ویسے ہی لفظ بلفظ لکھا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، (تحفة الأشراف: 2304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/300) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم