سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: الاِسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ
باب: جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2832
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَوْ زَيْدٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے“۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2832]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ (امام ابن ماجہ کے استاذ) علی بن محمد نے اپنی حدیث میں راوی کے بارے میں تردد کا اظہار کیا ہے کہ وہ عبداللہ بن یزید ہے یا عبداللہ بن زید ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجہاد 51 (1817)، سنن ابی داود/الجہاد 153 (2732)، سنن الترمذی/السیر 10 (1558)، (تحفة الأشراف: 16358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/67، 148)، سنن الدارمی/السیر 54 (2538) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کافر و مشرک سے جہاد میں بلاضرورت مدد لینا جائز نہیں، صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کا قصد کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں مشرک سے مدد نہیں چاہتا، جب وہ اسلام لایا تو اس سے مدد لی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم