🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: مَا يُوجِبُ الْحَجَّ
باب: حج کو کون سی چیز واجب کر دیتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2896
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟، قَالَ:" الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْحَاجُّ؟، قَالَ:" الشَّعِثُ التَّفِلُ"، وَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ومَا الْحَجُّ؟، قَالَ:" الْعَجُّ وَالثَّجُّ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْعَجِّ الْعَجِيجَ: بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ: نَحْرُ الْبُدْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی چیز حج کو واجب کر دیتی ہے،؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: زاد سفر اور سواری (کا انتظام) اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! حاجی کیسا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور «ثج» ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عج» کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور «ثج» کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2896]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس چیز سے حج واجب ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر خرچ اور سواری سے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حاجی کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پراگندہ بالوں والا، سادہ لباس والا۔ ایک اور شخص نے اٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حج کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: آواز بلند کرنا اور خون بہانا۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: آواز بلند کرنے سے مراد بلند آواز سے لبیک پکارنا ہے اور خون بہانے سے مراد اونٹ قربان کرنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 4 (813)، (تحفة الأشراف: 7440) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (ابراہیم بن یزید مکی متروک الحدیث راوی ہے، لیکن «العج و الثج» کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے، جو 2924 نمبر پر آئے گا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 988)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا لكن جملة العج والثج ثبتت في حديث آخر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (813،2998)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ أَيْضًا عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ" يَعْنِي قَوْلَهُ: مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرمان: «من استطاع إليه سبيلا» کا مطلب زاد سفر اور سواری ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2897]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 97] جس کو بیت اللہ تک راستہ طے کرنے کی طاقت ہو۔ کی وضاحت میں فرمایا: (اس طاقت سے مراد ہے) سفر خرچ اور سواری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6152، 6163، ومصباح الزجاجة: 1022) (ضعیف جدا) (سوید بن سعید متکلم فیہ اور عمر بن عطاء ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإروا ء: 988)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی قرآن میں جو آیا ہے کہ جو حج کے راہ کی طاقت رکھے اس سے مراد یہ ہے کہ کھانا اور سواری کا خرچ اس کے پاس ہو جائے تو حج فرض ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن عطاء بن وراز: ضعيف
هشام بن سليمان: مقبول (تقريب: 7296) أي مجهول الحال و سويدبن سعيد: ضعيف
وللحديث طريق موقوف عند البيهقي (331/4) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں