سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: التَّلْبِيَةِ
باب: لبیک پکارنا۔
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، وَالْعَمَلُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا، آپ فرماتے تھے: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا (ان میں) کوئی شریک نہیں“۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ کرتے: «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں، اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر (بھلائی) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2918]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبیہ سیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں اور بادشاہی بھی۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔“ امام نافع رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ! لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ”حاضر ہوں! حاضر ہوں! تیری اطاعت سے بہرہ ور ہوں۔ اور ہر قسم کی خیر تیرے ہاتھوں میں ہے۔ میں حاضر ہوں! (دل میں) تیری ہی لگن ہے اور (تیرے ہی لیے) عمل۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7873، 8013، 1813)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 26 (1549)، اللباس 69 (5951)، صحیح مسلم/الحج 3 (1184)، سنن ابی داود/الحج 27 (1812)، سنن الترمذی/الحج 13 (825)، سنن النسائی/الحج 54 (2750)، موطا امام مالک/الحج 9 (28)، حم2/3، 28، 34، 41، 43، 47، 48، 53، 76، 77، 79، 131، سنن الدارمی/المناسک 13 (1849) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، ان میں کوئی شریک نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2919]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”حاضر ہوں! اے اللہ، اے اللہ حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں! تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 27 (1813)، (تحفة الأشراف: 2604) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2920
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ:" لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیہ میں یوں کہا: «لبيك إله الحق لبيك» ”حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2920]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیے میں فرمایا: «لَبَّيْكَ إِلٰهَ الْحَقِّ، لَبَّيْكَ» ”حاضر ہوں، اے سچے معبود! میں حاضر ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 13941، ومصباح الزجاجة: 1030)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 54 (2753)، مسند احمد (2/341، 352، 476) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي، إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَهُنَا، وَهَهُنَا".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2921]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی تلبیہ کہنے والا «لَبَّيْكَ» پکارتا ہے، اس کے دائیں بائیں دونوں طرف زمین کی انتہا تک ہر پتھر، درخت اور اینٹ (ہر چیز) «لَبَّيْكَ» پکارتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 14 (828)، (تحفة الأشراف: 4735) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن