سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: الْمُلْتَزَمِ
باب: ملتزم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ السَّبْعِ رَكَعْنَا فِي دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَقُلْتُ: أَلَا نَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: ثُمَّ مَضَى، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَاب: فَأَلْصَقَ صَدْرَهُ وَيَدَيْهِ وَخَدَّهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
شعیب کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دادا) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2962]
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (حضرت شعیب بن محمد) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”میں نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا۔ جب ہم سات چکروں سے فارغ ہوئے تو ہم نے کعبہ کے پیچھے نماز ادا کی۔ میں نے کہا: کیا آپ آگ سے اللہ کی پناہ نہیں مانگتے؟ انہوں نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں (جہنم کی) آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر وہ (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ) چلے اور حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ پھر حجرِ اسود اور (کعبہ کے) دروازے کے درمیان کھڑے ہو کر اپنا سینہ، اپنے ہاتھ اور رخسار کعبہ سے لگا دیا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 55 (1899)، (تحفة الأشراف: 8776) (حسن)» (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2138)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1899)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1899)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484