سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: الْمَرِيضِ يَطُوفُ رَاكِبًا
باب: بیمار کے سواری پر طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ " أَنَّهَا مَرِضَتْ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ تَطُوفَ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَهِيَ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ {1} وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ {2} سورة الطور آية 1-2"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «والطور وكتاب مسطور» کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2961]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لیں۔ انھوں نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر رہے تھے اور یہ آیات تلاوت فرما رہے تھے: ﴿وَالطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ﴾ [سورة الطور: 1-2] ”قسم ہے طور کی اور لکھی ہوئی کتاب کی۔“”امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ ابوبکر بن شیبہ کی حدیث ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 78 (464)، الحج 64 (1619)، 71 (1626)، 74 (1633)، تفسیرالطور 1 (4853)، صحیح مسلم/الحج 42 (1276)، سنن ابی داود/الحج 49 (1882)، سنن النسائی/الحج 138 (2928)، (تحفة الأشراف: 18262)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 40 (123)، مسند احمد (6/290، 319) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، آج کل بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے سواری پر طواف کرنا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے، اس لیے اس کی جگہ پرمخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کرطواف کراتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه