سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: طَوَافِ الْقَارِنِ
باب: قارن کے طواف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ حَارِثٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وابن عباس " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَطُفْ هُوَ وَأَصْحَابُهُ لِعُمْرَتِهِمْ وَحَجَّتِهِمْ حِينَ قَدِمُوا، إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا".
جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2972]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو انہوں نے اپنے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے صرف ایک ہی طواف کیا تھا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2479، ومصباح الزجاجة: 1043) (صحیح)» (سند میں میں لیث بن أبی سلیم ضعیف اور مدلس ہیں، لیکن آگے کی حدیثوں سے یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہاں طواف سے مراد سعی ہے، متمتع پر صفا و مروہ کی دو سعی واجب ہیں جب کہ قارن کے لیے صرف ایک سعی کافی ہے خواہ طواف قدوم (زیارت) کے بعد کرے یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لیے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں سعی کے لیے بھی طواف کا لفظ وارد ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَافَ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ طَوَافًا وَاحِدًا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2973]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حج اور عمرے کے لیے ایک ہی طواف کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/387) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2974
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ قَدِمَ قَارِنًا فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حج قران کا احرام باندھ کر آئے، اور خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2974]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجِ قران کی نیت سے تشریف لائے تو انہوں نے بیت اللہ کے طواف کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8118، ومصباح الزجاجة: 1044) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم بن خالد الزنجي ضعيف
و حديث البخاري (1640) و مسلم (1230) و النسائي (5/ 225۔226ح 2935) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
إسناده ضعيف
مسلم بن خالد الزنجي ضعيف
و حديث البخاري (1640) و مسلم (1230) و النسائي (5/ 225۔226ح 2935) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَى لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تو ان دونوں کے لیے اسے ایک ہی سعی کافی ہے، اور وہ احرام نہ کھولے جب تک حج کو پورا نہ کر لے، اور اس وقت ان دونوں سے ایک ساتھ احرام کھولے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2975]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا، اسے ان دونوں کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے، اور وہ احرام نہیں کھولے گا حتی کہ حج پورا کر لے اور دونوں سے اکٹھا احرام کھولے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 102 (948)، (تحفة الأشراف: 8029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/67)، سنن الدارمی/النسک 29 (1886) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح