سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ: مَنْ تَقَدَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى لِرَمْيِ الْجِمَارِ
باب: جمرہ عقبہ کو کنکری مارنے کے لیے مزدلفہ سے منیٰ (وقت سے) پہلے آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3025
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ:" أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، زَادَ سُفْيَانُ فِيهِ وَلَا إِخَالُ أَحَدًا يَرْمِيهَا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو ہماری اپنی گدھیوں پر پہلے ہی روانہ کر دیا، آپ ہماری رانوں پر آہستہ سے مارتے تھے، اور فرماتے تھے: ”میرے بچو! سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا“ ۱؎۔ سفیان نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: ”میں نہیں سمجھتا کہ سورج نکلنے سے پہلے کوئی کنکریاں مارتا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3025]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم عبد المطلب کے خاندان کے چند لڑکے مزدلفہ سے اپنی گدھیوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی روانہ ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری رانوں پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”میرے پیارے بیٹو! اس وقت تک جمرے پر کنکریاں نہ مارنا جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے۔“”(راوئ حدیث) سفیان نے مذکورہ روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: ”میرے خیال میں کوئی بھی سورج طلوع ہونے سے پہلے اسے کوئی رمی نہیں کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 66 (1940)، سنن النسائی/الحج 222 (3066)، (تحفة الأشراف: 5396)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (893)، مسند احمد (1/234، 311، 343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ کو کنکری مارتے ہیں اور اس دن سورج نکلتے ہی کنکریاں ماری جاتی ہیں، البتہ گیارہ، بارہ اور تیرہ تاریخ کو تینوں جمرات کو سورج ڈھلنے کے بعد سات سات کنکریاں مارتے ہیں، ان دونوں میں سورج ڈھلنے سے پہلے کنکری مارنا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1940) نسائي (3066)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1940) نسائي (3066)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
حدیث نمبر: 3026
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ فِيمَنْ قَدِمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں جن کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا ان میں میں بھی تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3026]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے جو کمزور افراد (عورتیں اور بچے، قوت والے لوگوں سے) پہلے (مزدلفہ سے منیٰ) بھیجے تھے، میں بھی ان میں شامل تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 49 (1293)، سنن النسائی/الحج 208 (3036)، 214 (3051)، (تحفة الأشراف: 5944)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/221، 272) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتِ امْرَأَةً ثَبْطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَدْفَعَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ دَفْعَةِ النَّاسِ، فَأَذِنَ لَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ایک بھاری بھر کم عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے لوگوں کی روانگی سے پہلے جانے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3027]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بھاری بدن والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ ”مزدلفہ سے لوگوں کے روانہ ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو جائیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 98 (1680)، صحیح مسلم/الحج 49 (1290)، (تحفة الأشراف: 17479)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 209 (3040)، 214 (3052)، مسند احمد (6/30، 94، 99، 133، 164، 214)، سنن الدارمی/المناسک 53 (1928) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه