🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

78. بَابُ: الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ
باب: زمزم کا پانی پینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3061
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَالِسًا، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟، قَالَ: مِنْ زَمْزَمَ، قَالَ: فَشَرِبْتَ مِنْهَا كَمَا يَنْبَغِي، قَالَ: وَكَيْفَ؟، قَالَ: إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا، فَاسْتَقْبِلْ الكَعْبةَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَتَنَفَّسْ ثَلَاثًا، وَتَضَلَّعْ مِنْهَا، فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ آيَةَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ، إِنَّهُمْ لَا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ".
محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: زمزم کے پاس سے، پوچھا: تم نے اس سے پیا جیسا پینا چاہیئے، اس نے پوچھا: کیسے پینا چاہیئے؟ کہا: جب تم زمزم کا پانی پیو تو کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو اور اللہ کا نام لو، اور تین سانس میں پیو، اور خوب آسودہ ہو کر پیو، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ وہ سیر ہو کر زمزم کا پانی نہیں پیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3061]
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا۔ انہوں نے پوچھا: کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: زمزم سے۔ فرمایا: کیا تم نے اس میں سے اس طرح پیا ہے جس طرح پینا چاہیے؟ اس نے کہا: وہ کس طرح ہے؟ فرمایا: جب تو اس چاہ (زمزم) سے پانی پیے تو قبلے کی طرف منہ کر، اللہ کا نام لے، تین سانس لے اور سیر ہو کر پی۔ جب تو پی چکے تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کر کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے اور منافقوں کے درمیان (پہچان کے لیے) یہ علامت ہے کہ وہ زمزم سیر ہو کر نہیں پیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6442، ومصباح الزجاجة: 1063) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اختلاف کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإروا ء: 1125)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3062
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: زمزم کا پانی اس مقصد اور فائدے کے لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3062]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ» زمزم کا پانی اس (مقصد) کے لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2784، ومصباح الزجاجة: 1064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357، 372) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں عبداللہ بن مؤمل ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1123)
وضاحت: ۱؎: اگر آدمی زمزم کا پانی شفا کے لیے پئے تو شفا حاصل ہو گی، اگر پیٹ بھرنے کے لئے تو کھانے کی احتیاج نہ ہو گی، اگر پیاس بجھانے کے لیے پئے تو پیاس دور ہو جائے گی، بہرحال جس نیت سے پئے گا وہی فائدہ اللہ چاہے تو حاصل ہو گا، خواہ دنیا کا فائدہ ہو یا آخرت کا،صحیح کہا اور بہت سے ائمہ دین نے زمزم کو مختلف اغراض سے پیا ہے اور جو غرض تھی، وہ حاصل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن مؤمل ضعيف
و قيل: تابعه إبراھيم بن طھمان عند البيھقي (5/ 202) و لكن سنده ضعيف،فيه أحمد بن إسحاق بن شيبان البغدادي ولم أجد له ترجمة
و للحديث شواھد ضعيفة عند الطبراني (الأوسط: 3827) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں