🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. بَابُ: دُخُولِ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ کے اندر داخلے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ الْكَعْبَةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ شَيْبَةَ، فَأَغْلَقُوهَا عَلَيْهِمْ مِنْ دَاخِلٍ، فَلَمَّا خَرَجُوا، سَأَلْتُ بِلَالًا: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَأَخْبَرَنِي: أَنَّهُ صَلَّى عَلَى وَجْهِهِ حِينَ دَخَلَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ لُمْتُ نَفْسِي أَنْ لَا أَكُونَ سَأَلْتُهُ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ بلال اور عثمان بن شیبہ رضی اللہ عنہما بھی تھے، پھر ان لوگوں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا، جب وہ لوگ باہر نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک کے سامنے ہی نماز پڑھی، جب دونوں ستو نوں کے درمیان تشریف لے گئے، پھر میں نے اپنے آپ پر اس بات پر ملامت کی کہ میں نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3063]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن شیبہ رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے اندر سے کعبہ کا دروازہ بند کر لیا۔ جب وہ باہر نکلے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی تھی؟“ انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داخل ہونے کے بعد سامنے کے رخ دائیں طرف کے دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی۔ بعد میں میں نے خود کو ملامت کی کہ میں نے یہ کیوں نہ پوچھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی نماز پڑھی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (486)، 96 (504)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598)، الجہاد 127 (2688)، المغازي 49 (4289)، 77 (4400)، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن ابی داود/الحج 93 (2023)، سنن الترمذی/الحج 46 (874)، سنن النسائی/المساجد 5 (693)، القبلة 6 (750)، الحج 126 (2908)، 127 (2909)، (تحفة الأشراف: 2037)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد (2/33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15)، سنن الدارمی/المناسک 43 (1908) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ، فَقَالَ:" إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے، آپ بہت خوش اور ہشاش بشاش تھے، پھر میرے پاس واپس آئے تو آپ غمگین تھے، یہ دیکھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے، ابھی میرے پاس سے آپ نکلے تو آپ بہت خوش تھے، اور واپس آئے ہیں تو غمگین ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر گیا، پھر میرے جی میں آیا کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا، میں ڈرتا ہوں کہ اپنے بعد میں اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈال دوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3064]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن اور خوش تھے، پھر میرے پاس واپس آئے تو غمگین تھے، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ مطمئن اور خوش تھے اور واپس آئے تو آپ غمگین (اور پریشان) ہیں (اس کی وجہ کیا ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر داخل ہوا تھا، اب میرا جی چاہتا ہے کہ (کاش) میں نے ایسا نہ کیا ہوتا، مجھے خدشہ ہے کہ (اپنے اس عمل کی وجہ سے) میں اپنے بعد اپنی امت کو مشقت میں مبتلا نہ کر دوں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 95 (2029)، سنن الترمذی/الحج 45 (873)، (تحفة الأشراف: 16230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اسماعیل بن عبدالملک منکر راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3346)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2029) ترمذي (873)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں