🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

80. بَابُ: الْبَيْتُوتَةِ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى
باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3065
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی، کیونکہ زمزم کے پلانے کا کام ان کے سپرد تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3065]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے پانی پلانے کے فریضہ کی ادائیگی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ منیٰ کے ایام میں رات کو مکہ میں رہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 133 (1745)، صحیح مسلم/الحج 60 (1315)، سنن ابی داود/المناسک 75 (1959)، (تحفة الأشراف: 7939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/22)، سنن الدارمی/المناسک 91 (1986) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عذر کی وجہ سے اجازت خاص طور پر تھی ورنہ ہر شخص کو منیٰ کی دنوں میں یہ ضروری ہے کہ رات منیٰ میں بسر کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3066
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمْ يُرَخِّصْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَحَدٍ يَبِيتُ بِمَكَّةَ، إِلَّا لِلْعَبَّاسِ مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (منیٰ کے دنوں میں) کسی کو مکہ میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی سوائے عباس کے، کیونکہ حاجیوں کو پانی پلانے کا کام ان کے سپرد تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3066]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی (حاجی) کو مکہ میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی، سوائے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے، (جنہیں) ان کے منصب سقایت کی وجہ سے (رات کو مکہ میں رہنے کی اجازت دی۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5882، ومصباح الزجاجة: 1065) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (سند میں اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ضعفه البوصيري من أجل إسماعيل بن مسلم ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں