🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: السَّلْخِ
باب: کھال اتارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ عَطَاءٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ"، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا، حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبِطِ، وَقَالَ: يَا غُلَامُ،" هَكَذَا فَاسْلُخْ"، ثُمَّ مَضَى وَصَلَّى لِلنَّاسِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3179]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ایک طرف ہو جا، (کھال اتارنا) سکھاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان رکھا اور اسے زور سے داخل فرمایا حتیٰ کہ بغل تک بازو چھپ گیا۔ فرمایا: لڑکے! اس طرح کھال اتار۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل دیے اور (جاکر) لوگوں کو نماز پڑھائی اور (نماز کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 73 (185)، (تحفة الأشراف: 4158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ بکری نجس نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں