سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: الصَّيْدِ يَغِيبُ لَيْلَةً
باب: اگر زخمی شکار رات بھر غائب رہ کر مل جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3213
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنِّي لَيْلَةً، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ شَيْئًا، غَيْرَهُ فَكُلْهُ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں شکار کرتا ہوں اور شکار مجھ سے پوری رات غائب رہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور کا تیر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3213]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شکار پر تیر چلاتا ہوں، وہ رات بھر مجھ سے غائب رہتا ہے۔ (اگلے دن ملتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تجھے اس میں اپنا تیر لگا ہوا ملے اور اس میں تجھے اس کے سوا کچھ اور نہ ملے تو کھالے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الذبائح 8 (5484)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2849، 2850)، سنن الترمذی/الصید 3 (1469)، سنن النسائی/الصید 1 (4268)، 6 (4273)، 8 (4279)، 18 (4303)، (تحفة الأشراف: 9862) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه