سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: صَيْدِ الْقَوْسِ
باب: تیر کمان سے شکار کا حکم۔
حدیث نمبر: 3211
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کو کھاؤ جو تمہاری کمان شکار کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3211]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شکار کمان کے ذریعے سے حاصل ہو، وہ کھالے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11867) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3212
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ، وَخَزَقْتَ فَكُلْ مَا خَزَقْتَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیر مارو اور وہ (شکار کے جسم میں) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3212]
حضرت عدی بن حاتم (طائی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تیر چلاتے ہیں (شکار کے عادی ہیں)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو تیر چلا کر پھاڑ ڈالے تو جسے تو نے پھاڑا ہے، اسے کھالے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد ابن ماجة بھذاالسیاق (تحفة الأشراف: 9868، ومصباح الزجاجة: 1104)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 3 (2054)، الذبائح 3 (5477)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2847)، سنن الترمذی/الصید 1 (1465)، 3 (1467)، سنن النسائی/الصید 3 (4270)، مسند احمد (4، 256، 258، 380)، سنن الدارمی/الصید 1 (2046) (صحیح)» (سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح