🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَذْفِ
باب: «خذف» یعنی چھوٹی کنکریاں مارنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3226
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ، فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى، عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ:" إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ"، قَالَ: فَعَادَ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، ثُمَّ عُدْتَ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے: نہ اس (کنکری مارنے) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی بھی بات چیت نہیں کروں گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3226]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک عزیز نے کنکری پھینکی، انہوں نے منع کیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے: یہ (کنکری) نہ شکار مارتی ہے، نہ دشمن کو زخمی کرتی ہے لیکن دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔ اس نے دوبارہ یہی حرکت کی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھے حدیث سنا رہا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا ہے، اس کے باوجود تو نے پھر وہی حرکت کی۔ میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الذبائح 5 (5479)، الأدب 122 (6220)، صحیح مسلم/الصید 54 (1954)، سنن ابی داود/الأدب 168 (5270)، (تحفة الأشراف: 9657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/84، 5/54)، سنن الدارمی/المقدمة 40 (454) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے غصہ سے کہا، معلوم ہوا کہ جو کوئی حدیث کو سن کر یا جان کربھی اس کے خلاف پر اصرار کرے اس سے ترک تعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث کے خلاف ایک بات کہنے پر اپنے بیٹے کی سرزنش کی، اور ساری عمر اس سے بات نہ کرنے کی بات کہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3227
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَقْتُلُ الصَّيْدَ، وَلَا تَنْكِي الْعَدُوَّ، وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَتَكْسِرُ السِّنَّ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: اس سے نہ تو شکار مرتا ہے، اور نہ ہی یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے آنکھ پھوٹ جاتی ہے، اور دانت ٹوٹ جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3227]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا اور فرمایا: یہ نہ شکار مارتی ہے، نہ دشمن کو زخمی کرتی ہے لیکن آنکھ پھوڑ دیتی ہے اور دانت توڑ دیتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التفسیر 5 (4841)، الأدب 122 (6220)، صحیح مسلم/الصید 10 (1954)، سنن ابی داود/الأدب 178 (5270)، (تحفة الأشراف: 9663)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 33 (4819)، مسند احمد (4/86، 5/46، 54، 55، 56، 57) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں