سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: مَسْحِ الْيَدِ بَعْدَ الطَّعَامِ
باب: کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3282
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيُّ أَبُو الْحَارِثِ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا زَمَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَلِيلٌ مَا نَجِدُ الطَّعَامَ، فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ , لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ إِلَّا أَكُفُّنَا وَسَوَاعِدُنَا وَأَقْدَامُنَا، ثُمَّ نُصَلِّي وَلَا نَتَوَضَّأُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: غَرِيبٌ لَيْسَ إِلَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ہی میسر ہوتا تھا، اور جب ہمیں کھانا میسر ہو جاتا تو ہمارے پاس رومال اور تولیے نہیں ہوتے تھے، سوائے اپنی ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے، پھر ہم نماز پڑھتے، اور دوبارہ وضو نہیں کرتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، یہ صرف محمد بن سلمہ سے مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3282]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ملتا تھا۔ زیادہ گزارہ کھجوروں وغیرہ پر تھا۔ پھر جب ہمیں کھانا میسر آتا تو ہمارے پاس رومال نہیں ہوتے تھے، سوائے ہاتھوں، کلائیوں اور پاؤں کے۔ (ہاتھ کو لگی ہوئی چکنائی وغیرہ اس طرح ادھر ادھر مل لیتے تھے۔) پھر (نیا) وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ روایت غریب ہے۔ اسے صرف محمد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، (تحفة الأشراف: 2251)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 75 (191)، سنن الترمذی/الطہارة 59 (80) (صحیح)» (ابن ماجہ کے سند کی البانی صاحب نے تضعیف کی ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابن ماجہ، و سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5675، اور ابن حجر نے محمد بن ابی یحییٰ کی تعیین فرمائی ہے کہ وہ ابن فلیح ہیں، اور ان فلیح کی کنیت ابو یحییٰ ہے، کیونکہ دونوں روایتوں کا سیاق ایک ہی ہے، فتح الباری 9/579)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري