سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ
باب: شراب پینے والے کی نماز قبول نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3377
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَكِرَ , لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا , وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ , فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ , وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ , لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا , فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ , فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ , وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ , لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا , فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ , فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ , وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدَغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رَدَغَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ:" عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پی کر مست ہو جائے (نشہ ہو جائے) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اب اگر وہ (اس کے بعد بھی) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہو گا کہ اسے قیامت کے دن «ردغۃ الخبال» پلائے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! یہ «ردغۃ الخبال» کیا ہے؟ فرمایا: ”جہنمیوں کا پیپ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3377]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے شراب پی اور اسے نشہ ہو گیا، اس کی چالیس دن نماز قبول نہیں ہو گی اور اگر وہ (توبہ کیے بغیر) مر گیا تو جہنم میں جائے گا۔ اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اگر اس نے دوبارہ شراب پی لی اور اسے نشہ ہو گیا تو اس کی نماز (مزید) چالیس دن قبول نہ ہو گی۔ اگر (اس اثنا میں) وہ (توبہ کیے بغیر) مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گا۔ اگر اس نے پھر (تیسری بار) شراب پی اور اسے نشہ ہو گیا تو اس کی نماز (مزید) چالیس دن قبول نہیں ہو گی۔ اگر وہ مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گا۔ اور اگر اس نے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اگر اس نے پھر (چوتھی بار) شراب پی تو اللہ تعالیٰ نے (ایسے شخص کے بارے میں) پختہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اسے قیامت کے دن گندی کیچڑ پلائے گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گندی کیچڑ سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ اور گندگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأشربة 43 (5667)، (تحفة الأشراف: 8843)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 1 (1862)، مسند احمد (2/35، 176، 189، 197، 5/171، 6/460) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معاذ اللہ، شراب پینی، اور اتنی کہ آدمی مست ہو جائے، اور ہوش کھو دے،کتنا بڑا سخت گناہ ہے، توراۃ، اور انجیل میں بھی اس کی بہت برائی آئی ہے، اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تیسری بار اگر شراب پئے تو توبہ قبول نہ ہو گی، اور ضرور عذاب ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح