سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ
باب: شراب کی تجارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3382
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا , خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3382]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی اخیر والی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لے گئے اور شراب کے حرام ہونے کا اعلان فرما دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 105 (2226)، صحیح مسلم/المساقاة 12 (1580)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3490)، سنن النسائی/البیوع 89 (4669)، (تحفة الأشراف: 17636) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3383
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ ، أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا , فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ , أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ , حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3383]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ سمرہ کو تباہ کرے! کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت نازل فرمائے! ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ دیا“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 103 (2223)، الأنبیاء 50 (3457)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1582)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 8 (4262)، (تحفة الأشراف: 10501)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25)، سنن الدارمی/الأشرابة 9 (2150) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور بیچ کر اس کی قیمت کھا لی، معلوم ہوا کہ جیسے شراب حرام ہے، ویسے ہی اس کی قیمت لینا اور تجارت کرنا بھی حرام ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں بعض مسلمان تاجر اپنی دوکانوں میں شراب بھی رکھتے ہیں، اور خیال رکھتے ہیں کہ شراب کے بیچنے میں اتنا گناہ نہیں ہے جتنا اس کے پینے میں، حالانکہ حدیث کی روسے یہ سب برابر ہیں اور سب پر لعنت آتی ہے، اور شراب کا پیشہ حرام ہے، اس کا پینا اور پیلانا دونوں جائز نہیں، اسی طرح سود کا پیشہ اور جو تاجر شراب اور سود کی تجارت کرتا ہو اس کی دعوت میں جاتا تقوی اور دین داری کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه