سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : التجارة في الخمر
باب: شراب کی تجارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3382
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا , خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 105 (2226)، صحیح مسلم/المساقاة 12 (1580)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3490)، سنن النسائی/البیوع 89 (4669)، (تحفة الأشراف: 17636) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2226
| حرمت التجارة في الخمر |
صحيح البخاري |
4540
| حرم التجارة في الخمر |
صحيح البخاري |
459
| حرم تجارة الخمر |
صحيح البخاري |
4541
| حرم التجارة في الخمر |
صحيح البخاري |
4543
| حرم التجارة في الخمر |
صحيح البخاري |
4542
| حرم التجارة في الخمر |
صحيح البخاري |
2084
| حرم التجارة في الخمر |
صحيح مسلم |
4047
| حرم التجارة في الخمر |
صحيح مسلم |
4046
| نهى عن التجارة في الخمر |
سنن أبي داود |
3490
| حرمت التجارة في الخمر |
سنن النسائى الصغرى |
4669
| حرم التجارة في الخمر |
سنن ابن ماجه |
3382
| حرم التجارة في الخمر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3382 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3382
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سود کی تمام صورتیں حرام ہیں۔
تجارت کی بعض صورتیں بھی اس لئے حرام کردی گئی ہیں۔
کہ ان کا نتیجہ سود کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ (مثلاً بیع عینہ)
اسی طرح جب شراب حرام کی گئی ہو تو اس کی تجارت بھی حرام ہوگئی اس سے شراب نوشی کے راستے کھلتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مناسبت سے سود کے لین دین کی حرمت کے ساتھ شراب کی تجارت حرام ہونے کا بھی اعلان فرمایا۔ (تفسیر ابن کثیر سورہ بقرہ آیت: 275)
(2)
ایک مسئلہ بیان کرنے کی ضرورت ہوتو اس کے ساتھ اس سے ملتے جلتے مسائل بھی بیان کیے جا سکتے ہیں تاکہ سامعین کو دوبارہ یاد دہانی ہوجائے۔
(3)
حرام چیز کی خرید وفروخت بھی حرام ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
سود کی تمام صورتیں حرام ہیں۔
تجارت کی بعض صورتیں بھی اس لئے حرام کردی گئی ہیں۔
کہ ان کا نتیجہ سود کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ (مثلاً بیع عینہ)
اسی طرح جب شراب حرام کی گئی ہو تو اس کی تجارت بھی حرام ہوگئی اس سے شراب نوشی کے راستے کھلتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مناسبت سے سود کے لین دین کی حرمت کے ساتھ شراب کی تجارت حرام ہونے کا بھی اعلان فرمایا۔ (تفسیر ابن کثیر سورہ بقرہ آیت: 275)
(2)
ایک مسئلہ بیان کرنے کی ضرورت ہوتو اس کے ساتھ اس سے ملتے جلتے مسائل بھی بیان کیے جا سکتے ہیں تاکہ سامعین کو دوبارہ یاد دہانی ہوجائے۔
(3)
حرام چیز کی خرید وفروخت بھی حرام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3382]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد حسين ميمن حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 4543
اگر مقروض تنگ دست ہے تو اس کے لیے آسانی مہیا ہونے تک مہلت دینا
«. . . عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ . . .»
”. . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں پڑھ کر سنایا پھر شراب کی تجارت حرام کر دی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ: 4543]
«. . . عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ . . .»
”. . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں پڑھ کر سنایا پھر شراب کی تجارت حرام کر دی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ: 4543]
باب اور حدیث میں مناسبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 4543کا باب: «بَابُ: {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ}، {وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ}:»
بظاہر ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ظاہر نہیں ہو رہی ہے، کیونکہ ترجمۃ الباب کا تعلق قرضے سے ہے اور حدیث کا تعلق تجارت خمر سے ہے، چنانچہ اسماعیلی نے یہ اعتراض کیا کہ:
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
حرمت ربا کے اعلان کے ساتھ شراب کی تجارت کی حرمت کا اعلان اس کی قباحت اور شدت حرمت کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے، کیونکہ شدت حرمت اور قباحت ایک دوسرے کے قریب ہیں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس وقت جو لوگ وہاں حاضر ہوں آپ نے ان میں کچھ ایسے لوگ محسوس کئے ہوں جن کو تجارت خمر کا علم نہ ہوا ہو اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعادہ فرمایا۔
اس کے علاوہ مناسبت کا پہلو یہ بھی ہے کہ:
آیت باب میں مقروض کو مہلت اور اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، جبکہ یہ اصل مال ہے اور اس مال کو واپس لینا قرض دینے والے کا حق بھی ہے، لیکن اس کے باوجود اصل مال جسے ہم راس المال کہیں گے اسے معاف کرنے اور صدقہ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، لہٰذا سود تو اصل مال سے اضافی ہوتا ہے تو جب اصل مال معاف کرنے کی ترغیب ہے تو سود جو کہ اصل مال پر زیادتی ہے وہ کس طرح سے درست ہو گا؟ لہٰذا اب مناسبت کا پہلو یہ ہے کہ مذکورہ آیت سے سود کی حرمت اگرچہ عبارۃ النص کے طور پر واضح نہیں ہے، مگر دلالۃ النص کے طور پر ضرور ثابت ہوتی ہے اور دلالۃ النص اور عبارۃ النص کے بارے میں ”انواع التراجم فی صحیح البخاری“ میں ہم نے واضح کیا ہے، جس کا ذکر عون الباری ج ا کی ابتدا میں کیا گیا، «من شاء فلير جع هناك.»
ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لعل وجهه ان هذه الأيات متعلقة باٰيات الربا والاشارة فى ذالك الي الجميع.» [التوضيح لشرح الجامع للصحيح: 127/21]
ابن ملقن کے مطابق یہ آیات دراصل سود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، امام قسطلانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ نے تراجم الابواب قائم فرمائے ہیں اس موقع پر ان آیات سے مراد آیات ربا سے لے کر آیات دین تک ہے۔
یعنی امام قسطلانی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ترجمۃ الباب احادیث کے مخالف نہیں ہے، بلکہ ترجمۃ الباب کا تعلق حدیث کے ساتھ کسی نہ کسی توجیہ کے ساتھ قائم ہے۔
امام سہارنپوری رحمہ االلہ اپنے حاشیہ میں رقمطراز ہیں کہ:
«وأشار المصنف بايراد الحديث الوحد فى هذه التراجم الي أن المراد بالآيات اٰيات الربا كلها الي أخر آية الدين.» [ارشاد الساري: 95/10]
”مصنف نے اس حدیث کے ذریعہ اس تراجم کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان کی مراد آیات سے آیت ربا تک ہے اور وہ سلسلہ دین کی آخری آیت تک ہیں۔“
لہٰذا یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 4543کا باب: «بَابُ: {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ}، {وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ}:»
بظاہر ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ظاہر نہیں ہو رہی ہے، کیونکہ ترجمۃ الباب کا تعلق قرضے سے ہے اور حدیث کا تعلق تجارت خمر سے ہے، چنانچہ اسماعیلی نے یہ اعتراض کیا کہ:
«لا وجه للدخول هذه الاية فى هذا الباب.» [عمدة القاري للعيني: 188/18]
”روایت باب اور ترجمتہ الباب میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔“
کیونکہ آیت مبارکہ کا تعلق تو قرضے سے ہے اور روایت ربا اور تجارت خمر کی حرمت کے ساتھ ہے۔
لیکن غور کیا جائے تو یہاں پر مناسبت ترجمۃ الباب اور حدیث کی واضح طریقوں سے موجود ہے، ”روایت باب اور ترجمتہ الباب میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔“
کیونکہ آیت مبارکہ کا تعلق تو قرضے سے ہے اور روایت ربا اور تجارت خمر کی حرمت کے ساتھ ہے۔
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
حرمت ربا کے اعلان کے ساتھ شراب کی تجارت کی حرمت کا اعلان اس کی قباحت اور شدت حرمت کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے، کیونکہ شدت حرمت اور قباحت ایک دوسرے کے قریب ہیں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس وقت جو لوگ وہاں حاضر ہوں آپ نے ان میں کچھ ایسے لوگ محسوس کئے ہوں جن کو تجارت خمر کا علم نہ ہوا ہو اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعادہ فرمایا۔
اس کے علاوہ مناسبت کا پہلو یہ بھی ہے کہ:
آیت باب میں مقروض کو مہلت اور اس پر صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، جبکہ یہ اصل مال ہے اور اس مال کو واپس لینا قرض دینے والے کا حق بھی ہے، لیکن اس کے باوجود اصل مال جسے ہم راس المال کہیں گے اسے معاف کرنے اور صدقہ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، لہٰذا سود تو اصل مال سے اضافی ہوتا ہے تو جب اصل مال معاف کرنے کی ترغیب ہے تو سود جو کہ اصل مال پر زیادتی ہے وہ کس طرح سے درست ہو گا؟ لہٰذا اب مناسبت کا پہلو یہ ہے کہ مذکورہ آیت سے سود کی حرمت اگرچہ عبارۃ النص کے طور پر واضح نہیں ہے، مگر دلالۃ النص کے طور پر ضرور ثابت ہوتی ہے اور دلالۃ النص اور عبارۃ النص کے بارے میں ”انواع التراجم فی صحیح البخاری“ میں ہم نے واضح کیا ہے، جس کا ذکر عون الباری ج ا کی ابتدا میں کیا گیا، «من شاء فلير جع هناك.»
ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لعل وجهه ان هذه الأيات متعلقة باٰيات الربا والاشارة فى ذالك الي الجميع.» [التوضيح لشرح الجامع للصحيح: 127/21]
ابن ملقن کے مطابق یہ آیات دراصل سود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، امام قسطلانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ نے تراجم الابواب قائم فرمائے ہیں اس موقع پر ان آیات سے مراد آیات ربا سے لے کر آیات دین تک ہے۔
یعنی امام قسطلانی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ترجمۃ الباب احادیث کے مخالف نہیں ہے، بلکہ ترجمۃ الباب کا تعلق حدیث کے ساتھ کسی نہ کسی توجیہ کے ساتھ قائم ہے۔
امام سہارنپوری رحمہ االلہ اپنے حاشیہ میں رقمطراز ہیں کہ:
«وأشار المصنف بايراد الحديث الوحد فى هذه التراجم الي أن المراد بالآيات اٰيات الربا كلها الي أخر آية الدين.» [ارشاد الساري: 95/10]
”مصنف نے اس حدیث کے ذریعہ اس تراجم کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان کی مراد آیات سے آیت ربا تک ہے اور وہ سلسلہ دین کی آخری آیت تک ہیں۔“
لہٰذا یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہے۔
[عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث/صفحہ نمبر: 63]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4669
شراب بیچنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی، پھر شراب کی تجارت حرام قرار دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4669]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی، پھر شراب کی تجارت حرام قرار دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4669]
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث مبارکہ سے شراب کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کی تجارت کی حرمت بھی واضح ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سود کے ساتھ ملا کر بیان کیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (البقرة 2: 279) ”اگرتم لوگ سودی لین دین سے باز نہ آؤ گے تو پھر اللہ اور اس کے رسول طرف سے ایک (بڑی خوفناک) جنگ کا اعلان سن لو۔“
(2) سود کی حرمت کا شراب کی تجارت کی حرمت سے تعلق یہ ہے کہ یہ دونوں حرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سود ظلم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح شراب کی تجارت شراب پینے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ جب تک شراب کی تیاری، خرید و فروخت، لین دین مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا جاتا، اس وقت تک معاشرہ شراب پینے کی لعنت سے نہیں بچ سکتا۔ آپ نے سود کی حرمت سے یہ نتیجہ اخذ فرمایا کہ حرام کا ذریعہ بھی حرام ہوتا ہے، لہٰذا آپ نے شراب کی تجارت حرام فرما دی۔
(1) اس حدیث مبارکہ سے شراب کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کی تجارت کی حرمت بھی واضح ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سود کے ساتھ ملا کر بیان کیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (البقرة 2: 279) ”اگرتم لوگ سودی لین دین سے باز نہ آؤ گے تو پھر اللہ اور اس کے رسول طرف سے ایک (بڑی خوفناک) جنگ کا اعلان سن لو۔“
(2) سود کی حرمت کا شراب کی تجارت کی حرمت سے تعلق یہ ہے کہ یہ دونوں حرام کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سود ظلم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح شراب کی تجارت شراب پینے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ جب تک شراب کی تیاری، خرید و فروخت، لین دین مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا جاتا، اس وقت تک معاشرہ شراب پینے کی لعنت سے نہیں بچ سکتا۔ آپ نے سود کی حرمت سے یہ نتیجہ اخذ فرمایا کہ حرام کا ذریعہ بھی حرام ہوتا ہے، لہٰذا آپ نے شراب کی تجارت حرام فرما دی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4669]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4046
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب سورۃ بقرہ کے آخری حصہ کی آیات اتریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں لوگوں کو سنایا، پھر آپ رضی اللہ تعالی عننے شراب کی تجارت سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4046]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
شراب پینے اور اس کے بیچنے کی حرمت فتح مکہ سے پہلے نازل ہو چکی تھی،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیع کی حرمت کا اعلان فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں کر دیا تھا،
جیسا کہ آگے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت آ رہی ہے،
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن آیات کی طرف اشارہ فرمایا ہے،
اس سے مراد سود کے بارے میں اترنے والی آیات ہیں،
جیسا کہ اگلی روایت میں تصریح موجود ہے،
اور یہ آیات احکام کے بارے میں اترنے والی آیات میں سے سب سے آخری ہیں،
جو حجۃ الوداع کے قریب اتری ہیں،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربا کی حرمت کا اعلان حجۃ الوداع میں فرمایا تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے،
آیات ربا کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت شراب کا اعلان دوبارہ فرمایا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
ان دونوں کا آپس میں خصوصی تعلق ہے،
اور ایک دوسرے کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
شراب پینے اور اس کے بیچنے کی حرمت فتح مکہ سے پہلے نازل ہو چکی تھی،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیع کی حرمت کا اعلان فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں کر دیا تھا،
جیسا کہ آگے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت آ رہی ہے،
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن آیات کی طرف اشارہ فرمایا ہے،
اس سے مراد سود کے بارے میں اترنے والی آیات ہیں،
جیسا کہ اگلی روایت میں تصریح موجود ہے،
اور یہ آیات احکام کے بارے میں اترنے والی آیات میں سے سب سے آخری ہیں،
جو حجۃ الوداع کے قریب اتری ہیں،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربا کی حرمت کا اعلان حجۃ الوداع میں فرمایا تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے،
آیات ربا کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت شراب کا اعلان دوبارہ فرمایا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
ان دونوں کا آپس میں خصوصی تعلق ہے،
اور ایک دوسرے کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4046]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4540
4540. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سود کے متعلق سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لوگوں کو پڑھ کر سنائیں پھر آپ نے شراب کی خرید و فروخت کی حرمت کا بھی اعلان فرمایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4540]
حدیث حاشیہ:
یہ آیت ان لوگوں کی تردید میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا کہ سود بھی ایک طرح کی تجارت ہے پھر یہ حرام کیوں قرار دیا گیا۔
اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتلایا کہ تجارتی نفع حلال ہے اور سودی نفع حرام ہے۔
سود خوروں کا حال یہ ہوگا کہ وہ محشرمیں دیوانوں کی طرح سے کھڑے ہوں گے اور خون کی نہر میں ان کو غوطے دیئے جائیں گے۔
یہ آیت ان لوگوں کی تردید میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا کہ سود بھی ایک طرح کی تجارت ہے پھر یہ حرام کیوں قرار دیا گیا۔
اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتلایا کہ تجارتی نفع حلال ہے اور سودی نفع حرام ہے۔
سود خوروں کا حال یہ ہوگا کہ وہ محشرمیں دیوانوں کی طرح سے کھڑے ہوں گے اور خون کی نہر میں ان کو غوطے دیئے جائیں گے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4540]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4541
4541. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں مسجد میں تلاوت فرمایا۔ پھر آپ نے تجارت خمر کو بھی حرام قرار دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4541]
حدیث حاشیہ:
سودی مال بظاہر بڑھتا نظرآتا ہے مگر انجام کے لحاظ سے وہ ایک دن تلف ہوجاتا ہے۔
ہاں صدقہ خیرات ثواب کے لحاظ سے بڑھنے والی چیزیں ہیں۔
سود خور قوموں کو بظاہر عروج ملتاہے مگر انجام کے لحاظ سے ان کی نسلیں ترقی نہیں کرتی ہیں۔
سود بیاج اسلام میں بد ترین جرم قرار دیا گیا ہے۔
اسکے مقابلہ پر قرض حسنہ ہے، جس کے بہت سے فضائل ہیں۔
سودی مال بظاہر بڑھتا نظرآتا ہے مگر انجام کے لحاظ سے وہ ایک دن تلف ہوجاتا ہے۔
ہاں صدقہ خیرات ثواب کے لحاظ سے بڑھنے والی چیزیں ہیں۔
سود خور قوموں کو بظاہر عروج ملتاہے مگر انجام کے لحاظ سے ان کی نسلیں ترقی نہیں کرتی ہیں۔
سود بیاج اسلام میں بد ترین جرم قرار دیا گیا ہے۔
اسکے مقابلہ پر قرض حسنہ ہے، جس کے بہت سے فضائل ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4541]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4542
4542. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں جا کر انہیں تلاوت فرمایا۔ پھر آپ نے شراب کی سوداگری بھی حرام کر دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4542]
حدیث حاشیہ:
سود خوروں کو تنبیہ کی گئی کہ یا تو وہ اس سے باز آجائیں ورنہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں۔
گویا سود خوری سے باز نہ آنیوالے مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بر سر جنگ ہیں۔
ان کو اپنے انجام سے ڈر نا چاہیے۔
سود خوروں کو تنبیہ کی گئی کہ یا تو وہ اس سے باز آجائیں ورنہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں۔
گویا سود خوری سے باز نہ آنیوالے مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بر سر جنگ ہیں۔
ان کو اپنے انجام سے ڈر نا چاہیے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4542]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:459
459. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب حرمت سود کے متعلق سورہ بقرہ کی آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو وہ آیات پڑھ کر سنائیں۔ پھر آپ نے شراب کی تجارت کو بھی حرام کر دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:459]
حدیث حاشیہ:
1۔
مسجدیں چونکہ عبادت اور ذکرالٰہی کے لیے بنائی جاتی ہیں، اس لیے بظاہر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ شراب، سود اورخنزیر جیسی گندی چیزوں کا ذکر مسجد کے تقدس کے منافی ہے۔
اس اشکال کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔
امام بخاری ؒ کہ ان چیزوں کا ذکر اگر شرعی احکام کے بیان کرنے کے لیے آئے توجائز ہی نہیں، بلکہ مستحسن ہے۔
یعنی شراب جیسی حرام اورخبیث چیز کی حرمت کا مسئلہ مسجد میں بیان کیا جاسکتاہے۔
(فتح الباري: 716/1)
شراب اور سود کا حکم ایک ساتھ اس لےبیان کیا کہ سود کھانے والے اور شراب پینے والے یکساں طور پر شیطان کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
لیکن علامہ عینی ؒ نے کہا ہے کہ امام بخاری ؒ کا یہ مقصد نہیں، کیونکہ مسجد میں ان چیزوں کے تذکرے کا جواز ثابت کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔
بلکہ امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تجارت شراب کی حرمت کااعلان مسجد میں کیاگیا اور یہی بات حدیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت شراب کی شناعت کے پیش نظر اس کی حرمت کے اعلان کے لیے مسجد کے علاوہ کسی اورجگہ کو مناسب ہی خیال نہیں کیا، اس کے لیے مسجد نبوی کے منبر کا انتخاب کیا۔
اس سے معلوم ہواکہ اس کی حرمت انتہائی قبیح اور اس کی تجارت نہایت قابل نفرت ہے۔
(عمدة القاري: 507/3)
2۔
آیات ربا کانزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے بالکل آخری زمانے میں ہوا جبکہ حرمتِ شراب کا حکم اس سے کافی عرصہ پہلے آچکا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد نبوی میں آیاتِ ربا پڑھ کر سنانے کے بعد تجارت شراب کی حرمت کا اعلان کرنے کی کیا وجہ ہے؟ علمائےحدیث اس کے کئی ایک جواب دیتے ہیں:
۔
ا گرچہ شراب کی حرمت پہلے آچکی تھی تاہم آپ نے دوبارہ حرمت سود کے ساتھ بطور تاکید بیان فرمایا۔
۔
شراب کی حرمت کاحکم تو پہلے آچکا تھا، لیکن اس موقع پر اس کی تجارت کے متعلق بھی حکم امتناعی جاری کردیا۔
(فتح الباري: 716/1)
لیکن ہمارے نزدیک یہ توجیہ محل نظر ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی حرمت کا حکم آتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا بھی منع کردیاجاتا ہے۔
ہمارے نزدیک پسندیدہ توجیہ یہ ہےکہ سود اور شراب میں کافی مماثلت ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت ربا کے ساتھ تجارتِ شراب کی حرمت کا بھی بیان کردیا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ راوی نے اس وقت سنا ہو اوراپنے خیال کے مطابق اس نے بیان کردیا۔
واللہ أعلم۔
1۔
مسجدیں چونکہ عبادت اور ذکرالٰہی کے لیے بنائی جاتی ہیں، اس لیے بظاہر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ شراب، سود اورخنزیر جیسی گندی چیزوں کا ذکر مسجد کے تقدس کے منافی ہے۔
اس اشکال کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔
امام بخاری ؒ کہ ان چیزوں کا ذکر اگر شرعی احکام کے بیان کرنے کے لیے آئے توجائز ہی نہیں، بلکہ مستحسن ہے۔
یعنی شراب جیسی حرام اورخبیث چیز کی حرمت کا مسئلہ مسجد میں بیان کیا جاسکتاہے۔
(فتح الباري: 716/1)
شراب اور سود کا حکم ایک ساتھ اس لےبیان کیا کہ سود کھانے والے اور شراب پینے والے یکساں طور پر شیطان کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
لیکن علامہ عینی ؒ نے کہا ہے کہ امام بخاری ؒ کا یہ مقصد نہیں، کیونکہ مسجد میں ان چیزوں کے تذکرے کا جواز ثابت کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔
بلکہ امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تجارت شراب کی حرمت کااعلان مسجد میں کیاگیا اور یہی بات حدیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت شراب کی شناعت کے پیش نظر اس کی حرمت کے اعلان کے لیے مسجد کے علاوہ کسی اورجگہ کو مناسب ہی خیال نہیں کیا، اس کے لیے مسجد نبوی کے منبر کا انتخاب کیا۔
اس سے معلوم ہواکہ اس کی حرمت انتہائی قبیح اور اس کی تجارت نہایت قابل نفرت ہے۔
(عمدة القاري: 507/3)
2۔
آیات ربا کانزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے بالکل آخری زمانے میں ہوا جبکہ حرمتِ شراب کا حکم اس سے کافی عرصہ پہلے آچکا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد نبوی میں آیاتِ ربا پڑھ کر سنانے کے بعد تجارت شراب کی حرمت کا اعلان کرنے کی کیا وجہ ہے؟ علمائےحدیث اس کے کئی ایک جواب دیتے ہیں:
ا گرچہ شراب کی حرمت پہلے آچکی تھی تاہم آپ نے دوبارہ حرمت سود کے ساتھ بطور تاکید بیان فرمایا۔
شراب کی حرمت کاحکم تو پہلے آچکا تھا، لیکن اس موقع پر اس کی تجارت کے متعلق بھی حکم امتناعی جاری کردیا۔
(فتح الباري: 716/1)
لیکن ہمارے نزدیک یہ توجیہ محل نظر ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی حرمت کا حکم آتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا بھی منع کردیاجاتا ہے۔
ہمارے نزدیک پسندیدہ توجیہ یہ ہےکہ سود اور شراب میں کافی مماثلت ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت ربا کے ساتھ تجارتِ شراب کی حرمت کا بھی بیان کردیا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ راوی نے اس وقت سنا ہو اوراپنے خیال کے مطابق اس نے بیان کردیا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 459]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2084
2084. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسجد میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو پڑھ کر سنایا، پھر شراب کی تجارت کوحرام کردیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2084]
حدیث حاشیہ:
1۔
سورۂ بقرہ کی آخری آیات میں سود کی حرمت بیان کی گئی ہے اور سودی لین دین کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنا قرار دیا گیا ہے۔
(2)
اگرچہ شراب کی حرمت سورۂ مائدہ میں آیت رہا سے کافی مدت پہلے نازل ہوچکی تھی۔
اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجارت کو حرام قرار دیا تھا اور اس کا اعلان بھی کردیا تھا،پھر جب آیت ربا نازل ہوئی تو دوبارہ تاکید اور یاددہانی کے طور پر اس کی حرمت بیان فرمائی۔
(3)
واضح رہے کہ سورۂ بقرہ کے آخر میں قرض کے تحریر کرنے اور خریدوفروخت کے وقت گواہ بنانے کا زکر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناجائز تجارت، یعنی سودی معاملات کو لکھنا اور اس کے متعلق گواہی دینا جائز نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی مقصد کے لیے یہ حدیث بیان کی ہے۔
(فتح الباری: 4/397)
1۔
سورۂ بقرہ کی آخری آیات میں سود کی حرمت بیان کی گئی ہے اور سودی لین دین کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنا قرار دیا گیا ہے۔
(2)
اگرچہ شراب کی حرمت سورۂ مائدہ میں آیت رہا سے کافی مدت پہلے نازل ہوچکی تھی۔
اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجارت کو حرام قرار دیا تھا اور اس کا اعلان بھی کردیا تھا،پھر جب آیت ربا نازل ہوئی تو دوبارہ تاکید اور یاددہانی کے طور پر اس کی حرمت بیان فرمائی۔
(3)
واضح رہے کہ سورۂ بقرہ کے آخر میں قرض کے تحریر کرنے اور خریدوفروخت کے وقت گواہ بنانے کا زکر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناجائز تجارت، یعنی سودی معاملات کو لکھنا اور اس کے متعلق گواہی دینا جائز نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی مقصد کے لیے یہ حدیث بیان کی ہے۔
(فتح الباری: 4/397)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2084]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2226
2226. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”شراب کی تجارت کو حرام کردیاگیاہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2226]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”شراب کی قیمت وصول کرنا اور اسے استعمال کرنا حرام ہے۔
“ (مسند أحمد: 117/2)
(2)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب کی حرمت اور اس کی خریدوفروخت کی ممانعت ان دونوں میں کچھ آگے پیچھے کا فرق ہے۔
بہر حال اصل یہ ہے کہ جس چیز کا استعمال حرام ہے اس کی تجارت بھی حرام ہے۔
والله أعلم.
(1)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”شراب کی قیمت وصول کرنا اور اسے استعمال کرنا حرام ہے۔
“ (مسند أحمد: 117/2)
(2)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب کی حرمت اور اس کی خریدوفروخت کی ممانعت ان دونوں میں کچھ آگے پیچھے کا فرق ہے۔
بہر حال اصل یہ ہے کہ جس چیز کا استعمال حرام ہے اس کی تجارت بھی حرام ہے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2226]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4540
4540. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سود کے متعلق سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لوگوں کو پڑھ کر سنائیں پھر آپ نے شراب کی خرید و فروخت کی حرمت کا بھی اعلان فرمایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4540]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس باب سے لے کر باب 53 تک پیش کردہ آیات حرمت ربا کے سلسلے میں نازل ہوئیں اس لیے امام بخاری ؒ ہر عنوان کے تحت حضرت عائشہ ؓ سے مروی یہی حدیث لائے ہیں۔
جس میں حرمت خمر کا بھی ذکر ہے۔
اس سے یہی ثابت کرنا مقصود ہے کہ یہ سب آیات حرمت ربا کے متعلق ہیں اور ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی ہیں اور آپ نے مسجد نبوی میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2084)
2۔
یہاں ایک اشکال ہے کہ شراب کی حرمت تو غزوہ اۃحد کے فوراً بعد نازل ہوئی تھی اور اسی وقت اس کی خریدو فروخت حرام ٹھہری تھی تو اس موقع پر تجارت خمر کی حرمت کے اعلان کا کیا مطلب؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت تجارت خمر کے اعلان سے مقصود اس کی قباحت و شناعت اور اس کی سنگینی کو ظاہر کرنا تھا گویا سوداور شراب سنگینی اور شناعت میں ایک جیسے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت مجمع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ایسے لوگ محسوس کیے ہوں جنھیں تجارت خمر کی حرمت کا علم نہ ہو، اس لیے آپ نے دوبارہ اعلان فرما دیا۔
1۔
اس باب سے لے کر باب 53 تک پیش کردہ آیات حرمت ربا کے سلسلے میں نازل ہوئیں اس لیے امام بخاری ؒ ہر عنوان کے تحت حضرت عائشہ ؓ سے مروی یہی حدیث لائے ہیں۔
جس میں حرمت خمر کا بھی ذکر ہے۔
اس سے یہی ثابت کرنا مقصود ہے کہ یہ سب آیات حرمت ربا کے متعلق ہیں اور ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی ہیں اور آپ نے مسجد نبوی میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2084)
2۔
یہاں ایک اشکال ہے کہ شراب کی حرمت تو غزوہ اۃحد کے فوراً بعد نازل ہوئی تھی اور اسی وقت اس کی خریدو فروخت حرام ٹھہری تھی تو اس موقع پر تجارت خمر کی حرمت کے اعلان کا کیا مطلب؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت تجارت خمر کے اعلان سے مقصود اس کی قباحت و شناعت اور اس کی سنگینی کو ظاہر کرنا تھا گویا سوداور شراب سنگینی اور شناعت میں ایک جیسے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت مجمع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ایسے لوگ محسوس کیے ہوں جنھیں تجارت خمر کی حرمت کا علم نہ ہو، اس لیے آپ نے دوبارہ اعلان فرما دیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4540]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4541
4541. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں مسجد میں تلاوت فرمایا۔ پھر آپ نے تجارت خمر کو بھی حرام قرار دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4541]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث کو بیان کرنے سے امام بخاری ؒ کا یہ مقصود ہے کہ عنوان میں پیش کردہ آیت بھی انھی آیات میں سے ہے جن کا تذکرہ حضرت عائشہ ؓ نے کیا ہے اور جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں جا کر مجمع عام میں تلاوت فرمایا۔
2۔
بہر حال سود کی بے برکتی کو واضح کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"سود ظاہری لحاظ سے جتنا بھی بڑھ جائے اس کا انجام کمی ہی ہے۔
" (مسند أحمد: 395/1)
1۔
اس حدیث کو بیان کرنے سے امام بخاری ؒ کا یہ مقصود ہے کہ عنوان میں پیش کردہ آیت بھی انھی آیات میں سے ہے جن کا تذکرہ حضرت عائشہ ؓ نے کیا ہے اور جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں جا کر مجمع عام میں تلاوت فرمایا۔
2۔
بہر حال سود کی بے برکتی کو واضح کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"سود ظاہری لحاظ سے جتنا بھی بڑھ جائے اس کا انجام کمی ہی ہے۔
" (مسند أحمد: 395/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4541]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4542
4542. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں جا کر انہیں تلاوت فرمایا۔ پھر آپ نے شراب کی سوداگری بھی حرام کر دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4542]
حدیث حاشیہ:
1۔
سود کے متعلق آیات نازل ہونے کے چند ہی دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع ادا کیا اور حرمت سود کے حکم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں اعلان فرمایا:
"جاہلیت کے تمام سود باطل قرار دیےجاتے ہیں سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا سود یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔
'' (صحیح مسلم، حدیث: 2950۔
(1218)
2۔
واضح رہے کہ ان آیات کے نازل ہونے کے چار ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
۔
۔
صلی اللہ علیہ وسلم
1۔
سود کے متعلق آیات نازل ہونے کے چند ہی دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع ادا کیا اور حرمت سود کے حکم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں اعلان فرمایا:
"جاہلیت کے تمام سود باطل قرار دیےجاتے ہیں سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا سود یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔
'' (صحیح مسلم، حدیث: 2950۔
(1218)
2۔
واضح رہے کہ ان آیات کے نازل ہونے کے چار ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
۔
۔
صلی اللہ علیہ وسلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4542]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4543
4543. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور ہمیں وہ آیات پڑھ کر سنائیں۔ اس کے بعد آپ نے شراب کی تجارت کو حرام قرار دینے کا اعلان فرمایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4543]
حدیث حاشیہ:
بلا شبہ سود کی حرمت کے متعلق آیات کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی گے آخری دور میں ہوا، چنانچہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:
آیات ربا قرآن کریم کی ان آیات میں سے ہیں جو آخر زمانہ میں نازل ہوئیں، پھر ان کی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی لہٰذا تم سود چھوڑ دو، اور ہر اس چیز کو بھی ترک کردو جس میں سود کا شائبہ ہو۔
(سنن ابن ماجة، التجارات، حدیث: 2276)
بلا شبہ سود کی حرمت کے متعلق آیات کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی گے آخری دور میں ہوا، چنانچہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:
آیات ربا قرآن کریم کی ان آیات میں سے ہیں جو آخر زمانہ میں نازل ہوئیں، پھر ان کی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی لہٰذا تم سود چھوڑ دو، اور ہر اس چیز کو بھی ترک کردو جس میں سود کا شائبہ ہو۔
(سنن ابن ماجة، التجارات، حدیث: 2276)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4543]
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق