🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: التَّلْبِينَةِ
باب: حریرہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3445
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ , قَالَتْ: وَكَانَ يَقُولُ:" إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ , وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ , كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ عَنْ وَجْهِهَا بِالْمَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو جب بخار آتا تو آپ حریرہ کھانے کا حکم دیتے، اور فرماتے: یہ غمگین کے دل کو سنبھالتا ہے، اور بیمار کے دل سے اسی طرح رنج و غم دور کر دیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کو پانی سے دور کر دیتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3445]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جب کسی کو بخار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اس سے غمزدہ انسان کے دل کو سہارا ملتا ہے، اور بیمار کے دل سے رنج کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح کوئی عورت پانی کے ذریعے سے اپنے چہرے سے میل کچیل دور کرتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطب 3 (2039)، (تحفة الأشراف: 17990)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/32) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ام محمد بن سائب ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱ ؎: حسا یعنی حریرہ آٹا، پانی، گھی یا تیل وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، اس میں کبھی میٹھا بھی ڈالتے ہیں، اور کبھی شہد اور کبھی آٹے کے بدلے میں آٹے کا چھان ڈالتے ہیں، اس کو تلبینہ کہتے ہیں، اردو میں حریرہ مشہور ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3446
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ , عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , يُقَالَ لَهَا كُلْثُمٌ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينَةِ" , يَعْنِي: الْحَسَاءَ , قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ , لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ , حَتَّى يَنْتَهِيَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ , يَعْنِي: يَبْرَأُ أَوْ يَمُوتُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک ایسی چیز کو لازماً کھاؤ جس کو دل نہیں چاہتا، لیکن وہ نفع بخش ہے یعنی حریرہ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہانڈی برابر چولھے پر چڑھی رہتی یعنی حریرہ تیار رہتا یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک بات ہوتی یعنی یا تو وہ شفاء یاب ہو جاتا یا انتقال کر جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3446]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیدہ مفید چیز «التَّلْبِينَةُ» (حریرہ) کو اپناؤ۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو (حریرہ) کی ہنڈیا آگ پر چڑھی رہتی، حتی کہ (اس کا معاملہ) کسی ایک طرف لگ جاتا، یعنی وہ فوت ہو جاتا یا شفا یاب۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17987، ومصباح الزجاجة: 1196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/79، 138، 152، 242) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ام کلثم غیر معروف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں