🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : التلبينة
باب: حریرہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3446
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ , عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , يُقَالَ لَهَا كُلْثُمٌ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينَةِ" , يَعْنِي: الْحَسَاءَ , قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ , لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ , حَتَّى يَنْتَهِيَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ , يَعْنِي: يَبْرَأُ أَوْ يَمُوتُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک ایسی چیز کو لازماً کھاؤ جس کو دل نہیں چاہتا، لیکن وہ نفع بخش ہے یعنی حریرہ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہانڈی برابر چولھے پر چڑھی رہتی یعنی حریرہ تیار رہتا یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک بات ہوتی یعنی یا تو وہ شفاء یاب ہو جاتا یا انتقال کر جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17987، ومصباح الزجاجة: 1196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/79، 138، 152، 242) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ام کلثم غیر معروف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥كلثم بنت عمرو القرشية، أم كلثوم
Newكلثم بنت عمرو القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مجهول الحال
👤←👥أيمن بن نابل الحبشي، أبو عمران، أبو عمرو
Newأيمن بن نابل الحبشي ← كلثم بنت عمرو القرشية
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← أيمن بن نابل الحبشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد القرشي
Newعلي بن محمد القرشي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5689
التلبينة تجم فؤاد المريض وتذهب ببعض الحزن
سنن ابن ماجه
3446
عليكم بالبغيض النافع التلبينة إذا اشتكى أحد من أهله لم تزل البرمة على النار حتى ينتهي أحد طرفيه يعني يبرأ أو يموت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3446 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3446
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تلبینہ کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔
وہ ایک رقیق کھانا ہے جو آٹے یا چھان (آٹے کی بھوسی)
سے بنایا جاتا ہے۔
اس میں بعض اوقات شہد بھی ڈالا جاتا ہے۔ (النہایة۔
مادہ لبن)

(2)
نواب وحید الزمان خان نے اس کا ترجمہ ہریرہ کیا ہے۔
انھوں نے اس کی وضاحت یوں کی ہے۔
حساء وہ کھانا ہے۔
جو آٹے پانی اور روغن سے بنایا جاتاہے۔
اس میں کبھی شیرینی بھی ڈالتے ہیں۔
اور کبھی شہد کبھی آٹے کے بدلے آٹے کا چھان ڈالتے ہیں۔
اس کو تلبینہ کہتے ہیں۔
اور ہندی میں ہریرہ مشہور ہے۔ (ترجمہ سنن ابن ماجہ حاشہ حدیث ہذا)

(3)
فیروز اللغات اردو میں حریرہ کے معنی یوں بیان کئے گئے ہیں۔
میٹھی اور گاڑھی چیز جو میدے کو کھانڈ میں گھول کر پکائی جاتی ہے۔

(4)
تلبینہ کی ترغیب دیگر صحیح احادیث میں بھی موجود ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تلبینہ بیمار کے دل کو سہارا دیتا اور غم میں تخفیف کرتا ہے۔ (صحیح بخاري، طب، باب تلینة المریض، حدیث: 5689 وصحیح مسلم، السلام، باب التلینة محمة لفواد المریض، حدیث: 2216)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3446]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5689
5689. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ وہ مریض اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ بنانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا اور کچھ غم کو دور کر دیتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5689]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ جب گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتے اور فرماتے:
اس سے غمزدہ انسان کے دل کو سہارا ملتا ہے اور یہ بیمار کے دل سے رنج کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح کوئی عورت پانی سے اپنے چہرے کا گردوغبار دور کرتی ہے۔
(جامع الترمذي، الطب، حدیث: 3445) (2)
بہرحال اس کے بہت فوائد ہیں۔
احادیث میں اس کے استعمال کی بہت ترغیب دی گئی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5689]