🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ مَا يُدْفَنُ:
باب: مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1336
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , قَالَ:" أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَلَّوْا خَلْفَهُ"، قُلْتُ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا يَا أَبَا عَمْرٍو؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر سے گزرے تھے۔ قبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام بنے اور صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ شیبانی نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو! یہ آپ سے کس صحابی نے بیان کیا تھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1336]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں لوگوں کی امامت کی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے نماز (جنازہ) پڑھی۔ شیبانی کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق بتایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ أَسْوَدَ رَجُلًا , أَوِ امْرَأَةً , كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ , وَلَمْ يَعْلَمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْإِنْسَانُ؟ , قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا , وَكَذَا قِصَّتُهُ، قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ، قَالَ فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ".
ہم سے محمد بن فضل نے کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھیں ‘ ان کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کی خبر کسی نے نہیں دی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ان کا تو انتقال ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کی کہ یہ وجوہ تھیں (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے ان کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو مجھے ان کی قبر بتا دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1337]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام (مرد یا عورت) مسجد میں رہتا اور جھاڑو دیا کرتا تھا۔ اس کا انتقال ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی موت کا علم نہ ہو سکا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر فرمایا اور دریافت کیا: وہ شخص کہاں ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وفات ہو گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے مطلع کیوں نہ کیا؟ انہوں نے عرض کیا: حضرت! اس کا قصہ تو اس طرح ہے، گویا انہوں نے اس کا معاملہ اتنا اہم نہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر سے آگاہ کرو۔ چنانچہ آپ اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں