سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ: الْجُذَامِ
باب: جذام (کوڑھ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , ومحمد بن خلف العسقلاني , قَالُوا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مَجْذُومٍ , فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ , ثُمَّ قَالَ:" كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا، پھر اس سے کہا: ”کھاؤ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3542]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالے میں ڈال دیا (اور اسے کھانے میں شریک کر لیا)۔ پھر فرمایا: «كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» ”کھا، اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 24 (3925)، سنن الترمذی/الأطعمة 19 (1817)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف)» (سند میں مفضل بن فضالہ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3925) ترمذي (1817)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3925) ترمذي (1817)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
حدیث نمبر: 3543
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ جَمِيعًا , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جذامیوں (کوڑھیوں) کی طرف لگاتار مت دیکھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3543]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جذام کے مریضوں کو ٹکٹی باندھ کر نہ دیکھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6575، ومصباح الزجاجة: 1236)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/233، 299) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3544
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْنَاكَ".
شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: ”تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3544]
حضرت عمرو رحمہ اللہ اپنے والد حضرت شرید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: قبیلۂ ثقیف کے وفد میں ایک مجذوم آدمی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا: ”واپس جا، ہم نے تیری بیعت لے لی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن النسائی/البیعة 19 (4187)، (تحفة الأشراف: 4837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ زیادہ دیکھنے سے دل میں وسوسہ اور اندیشہ پیدا ہو گا، اگر کبھی ایسے مصیبت زدہ پر نظر پڑ جائے تو یوں کہے: «الحمد لله الذى عافانى مما ابتلاك به وفضلنى على كثير ممن خلق تفضيلا» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم