صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. بَابُ الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ:
باب: رات میں دفن کرنا کیسا ہے؟ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات میں دفن کئے گئے۔
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ، قَامَ هُوَ , وَأَصْحَابُهُ وَكَانَ سَأَلَ عَنْهُ , فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: فُلَانٌ، دُفِنَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جن کا انتقال رات کے وقت ہوا (اور اسے رات ہی میں دفن کر دیا گیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق پوچھا تھا کہ یہ کن کی قبر ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے جسے کل رات ہی دفن کیا گیا ہے۔ پھر سب نے (دوسرے روز) نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة