🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ: صِفَةِ النِّعَالِ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کیسی تھی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ , قَالَ:" كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قِبَالَانِ مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی دو پٹیاں تھیں جن کے تسمے دہرے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5784، ومصباح الزجاجة: 1260) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپل پہنتے تھے اور تسموں سے مراد یہ کہ ہر جوتی میں سامنے دو دو حلقے چمڑے کے تھے ایک میں انگوٹھا اور بیچ کی انگلی ڈالتے، اور دوسرے میں باقی انگلیاں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (في الشمائل: 75)
سفيان الثوري عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 3615) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ:" كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3615]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کی دوپٹیاں تھیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 5 (107)، اللباس 41 (5857)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4134)، سنن الترمذی/اللباس 33 (1772)، الشمائل 10 (71)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 62 (5369)، (تحفة الأشراف: 1392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 203، 245، 269) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں