سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : صفة النعال
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کیسی تھی؟
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ , قَالَ:" كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قِبَالَانِ مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی دو پٹیاں تھیں جن کے تسمے دہرے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5784، ومصباح الزجاجة: 1260) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپل پہنتے تھے اور تسموں سے مراد یہ کہ ہر جوتی میں سامنے دو دو حلقے چمڑے کے تھے ایک میں انگوٹھا اور بیچ کی انگلی ڈالتے، اور دوسرے میں باقی انگلیاں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (في الشمائل: 75)
سفيان الثوري عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 3615) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
إسناده ضعيف
ترمذي (في الشمائل: 75)
سفيان الثوري عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 3615) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3614
| كان لنعل النبي قبالان مثني شراكهما |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3614 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3614
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے جوتے کی بناوٹ موجودہ دور کی ہوائی چپل ملتی جلتی ہے۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا (شسع)
انگیوں کے درمیان ہوتا تھا۔
اور اس کا ایک سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہوتا ہے۔
(2)
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں یا جرابوں پر مسح کرتے وقت پاؤں جوتوں سے نہیں نکالتے تھے بلکہ جوتوں سمیت مسح کر لیتے تھے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 560، 559)
بلکہ جوتے اتارے بغیر پاؤں بھی دھو بھی لیتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب غسل الرجلين في النعلين ولايمسح على النعلين حديث: 166)
فوائد ومسائل:
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے جوتے کی بناوٹ موجودہ دور کی ہوائی چپل ملتی جلتی ہے۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا (شسع)
انگیوں کے درمیان ہوتا تھا۔
اور اس کا ایک سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہوتا ہے۔
(2)
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں یا جرابوں پر مسح کرتے وقت پاؤں جوتوں سے نہیں نکالتے تھے بلکہ جوتوں سمیت مسح کر لیتے تھے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 560، 559)
بلکہ جوتے اتارے بغیر پاؤں بھی دھو بھی لیتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب غسل الرجلين في النعلين ولايمسح على النعلين حديث: 166)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3614]
Sunan Ibn Majah Hadith 3614 in Urdu
عبد الله بن الحارث الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي