سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: الْخِضَابِ بِالصُّفْرَةِ
باب: خضاب میں زرد رنگ کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 3626
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ جُرَيْجٍ , سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ: رَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْوَرْسِ , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي , فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ".
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد (پیلی) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد (پیلی) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3626]
حضرت عبید بن جریج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ”میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ورس کے ذریعے سے اپنی داڑھی کا رنگ زرد کر لیتے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے؟)“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا اپنی داڑھی کو زرد کرنے کا سبب یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ریش مبارک زرد کرتے دیکھا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الوضوء 30 (166)، اللباس 37 (5851)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن ابی داود/المناسک 21 (1772)، اللباس 18 (4064)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 11 (5245)، (تحفة الأشراف: 7316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3627
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ , فَقَالَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا" , ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ , فَقَالَ:" هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا" , ثُمَّ مَرَّ بِآخَرَ قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَةِ , فَقَالَ:" هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ" , قَالَ: وَكَانَ طَاوُسٌ يُصَفِّرُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے“، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم (وسمہ) کا خضاب لگایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس سے اچھا ہے“! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے“۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3627]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا (بالوں کا رنگ مہندی لگا کر تبدیل کیا ہوا تھا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور وسمہ کا خضاب کیا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس سے زیادہ اچھا ہے۔“ پھر ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے جس نے زرد خضاب کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان سب سے اچھا ہے۔“ راویِ حدیث بیان کرتے ہیں (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) حضرت طاؤس رحمہ اللہ زرد خضاب استعمال کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 19 (4211)، (تحفة الأشراف: 5720) (ضعیف)» (سند میں حمید بن وہب لین الحدیث راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4211)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4211)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508