سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْقَزَعِ
باب: قزع سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3637
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," عَنِ الْقَزَعِ" , قَالَ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ:" أَنْ يُحْلَقَ مِنْ رَأْسِ الصَّبِيِّ مَكَانٌ , وَيُتْرَكَ مَكَانٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: «قزع» کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے «قزع» کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3637]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْقَزَعِ» ”قزع“ سے منع فرمایا ہے۔“ حضرت نافع رحمہ اللہ نے کہا: ”قزع کا کیا مطلب ہے؟“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کا سر ایک جگہ سے (کچھ حصہ) مونڈ دیا جائے اور ایک جگہ سے (کچھ حصہ) چھوڑ دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 72 (5920)، صحیح مسلم/اللباس 31 (2120)، سنن ابی داود/الترجل 14 (4193)، سنن النسائی/الزینة 5 (5053)، (تحفة الأشراف: 8243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/4، 39، 55، 67، 82، 83، 101، 106، 118، 137، 143، 154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3638
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا شَبَابَةُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ,، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3638]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قَزَع» سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7197)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/67، 83، 118، 154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري