سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ: الصُّوَرِ فِيمَا يُوطَأُ
باب: تصویروں کو پامال اور روندی جانے والی جگہوں میں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3653
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي تَعْنِي: الدَّاخِلَ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ , فَجَعَلْتُ مِنْهُ مَنْبُوذَتَيْنِ:" فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3653]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے گھر کے اندر اپنے ایک طاقچے پر تصویروں والا پردہ لٹکا دیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھاڑ ڈالا۔ میں نے اس کے دو گدے بنا لیے، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں سے ایک گدے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17427، ومصباح الزجاجة: 1268)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم 32 (2479، 2476)، اللباس 91 (5954، 5955)، الأدب 75 (6109)، (بدون ذکرالصلاة في المواضع الثلاثة) صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، سنن النسائی/القبلة 12 (762)، الزینة من المجتبیٰ 57 (5356)، مسند احمد (6/174)، سنن الدارمی/الاستئذان 33 (2704) (حسن صحیح)» (سند میں اسامہ بن زید ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، کمافی التخریج)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے نقشی تصویر کی بھی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے کہا آپ کا یہ فعل حرمت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے خاندان میں دنیا کی زیب و زینت اور آرائستگی کو برا سمجھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن، بخاري ومسلم