سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: الْقَصَصِ
باب: وعظ و نصیحت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3753
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ , إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3753]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو وعظ امیر کرتا ہے، یا جسے حکم دیا گیا ہو (اور اس منصب پر مقرر کیا گیا ہو،) یا ریا کار۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8727، ومصباح الزجاجة: 1313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 183)، سنن الدارمی/الرقاق 63 (2821) (صحیح)» (اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن عامر الاسلمی ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے تقو یت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اور ریاکار وہ ہے جو لوگوں میں اپنی ناموری اور شہرت کے لئے وعظ کہتا ہے، اور لوگوں کو بری بات سے منع کرتا ہے، اور خود سب سے زیادہ برے کاموں میں پھنسا رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3754
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْعُمَرِيِّ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" لَمْ يَكُنِ الْقَصَصُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ , وَلَا زَمَنِ عُمَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یہ قصہ گوئی نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی، اور نہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3754]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قصہ گوئی تھی، نہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7738، ومصباح الزجاجة: 1314) (ضعیف)» (سند میں عبد اللہ بن عمرالعمری ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن