سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. بَابُ: فَضْلِ الْعَمَلِ
باب: عمل کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3821
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ , وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ , وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا , وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا , وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً , وَمَنْ لَقِيَنِي بِقِرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً , ثُمَّ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے (عبادت و طاعت کے ذریعہ) ایک بالشت قریب ہو گا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا، اور جو شخص میرے پاس (معمولی چال سے) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا، اس حال میں کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر بخشش لے کر اس سے ملوں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3821]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ”جو شخص نیکی کرتا ہے اسے دس گنا (اجر) ملے گا اور میں (اس سے) زیادہ بھی دے دیتا ہوں۔ اور جو شخص گناہ کرتا ہے تو گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہے (زیادہ نہیں) یا میں (وہ گناہ بھی) معاف کر دیتا ہوں۔ اور جو شخص ایک بالشت میرے قریب آتا ہے، میں اس سے ایک ہاتھ قریب آتا ہوں اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔ اور جو میری طرف چل کر آتا ہے، میں اس کی طرف بھاگ کر آتا ہوں۔ جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہ لے کر ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، میں اسے اتنی ہی مغفرت لے کر ملتا ہوں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 6 (2687)، (تحفة الأشراف: 11984)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/147، 148، 153، 155، 169، 180، سنن الدارمی/الرقاق 72 (2830) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3822
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي , وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي , فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي , وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ , وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا , وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ میرا دل میں ذکر کرتا ہے تو میں بھی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا ذکر لوگوں میں کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کی جانب دوڑ کر آتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3822]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: ”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق (اس سے معاملہ کرتا) ہوں، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور اگر وہ کسی جماعت میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں ان سے بہتر (فرشتوں کی) جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتا ہوں، اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 1 (2675)، سنن الترمذی/الدعوات 132 (3603)، (تحفة الأشراف: 12505)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 15 (7405)، مسند احمد (2/251) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں لفظ نفس کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ثابت کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3823
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَوَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ لَهُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ , قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3823]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کے بیٹے کا ہر عمل (ثواب میں) بڑھتا ہے، (یعنی) ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھتی ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”سوائے روزے کے کیونکہ وہ (خالص) میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 25 (1151)، سنن الترمذی/الصوم 55 (764)، سنن النسائی/الصیام 23 (2216)، (تحفة الأشراف: 12470، 12520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 2 (1894)، 9 (1904)، اللباس 78 (5927)، التوحید 35 (7501)، 50 (7537)، صحیح مسلم/الصوم 30 (1151)، موطا امام مالک/الصیام 22 (57)، مسند احمد (2/232، 252، 257، 266، 273، 293، 352، 313، 443، 445، 475، 477، 480، 501، 510)، سنن الدارمی/الصوم 50 (1812) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح