🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ: الرُّؤْيَا ثَلاَثٌ
باب: خواب کی تین قسمیں ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ , وَحَدِيثُ النَّفْسِ , وَتَخْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ , فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصَّ إِنْ شَاءَ , وَإِنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهَا عَلَى أَحَدٍ وَلْيَقُمْ يُصَلِّي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین طرح کا ہوتا ہے: ایک اللہ کی طرف سے خوشخبری، دوسرے خیالی باتیں، تیسرے شیطان کا ڈرانا، پس جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اگر چاہے تو لوگوں سے بیان کر دے، اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اس کو کسی سے بیان نہ کرے، اور کھڑ ے ہو کر نماز پڑھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3906]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: (ایک) اللہ کی طرف سے خوش خبری، (دوسرے) دل کے خیالات اور (تیسرے) شیطان کی طرف سے خوف زدہ کرنے کے لیے (برے اور ڈراؤنے خواب)۔ جب کسی کو ایسا خواب آئے جو اسے اچھا لگے تو اگر وہ چاہے تو اسے (کسی کے سامنے) بیان کردے۔ اور اگر کوئی ناپسندیدہ چیز نظر آئے تو کسی کو خواب نہ سنائے اور اٹھ کر نماز پڑھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14493، ومصباح الزجاجة: 1366)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الرؤیا 1 (2270)، سنن الدارمی/الرؤیا 6 (2189) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ہوذہ بن خلیفہ صدوق راوی ہے، نیز حدیث کے طرق اور شواہد ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسے خواب کو نہیں بیان کرنا چاہیے جو شیطانی تخویفات اور نفسیاتی تلبیسات ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فإذا رأى
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبِيدَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ , عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: مِنْهَا أَهَاوِيلُ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ بِهَا ابْنَ آدَمَ , وَمِنْهَا مَا يَهُمُّ بِهِ الرَّجُلُ فِي يَقَظَتِهِ فَيَرَاهُ فِي مَنَامِهِ , وَمِنْهَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ , أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک تو شیطان کی ڈراونی باتیں تاکہ وہ ابن آدم کو ان کے ذریعہ غمگین کرے، بعض خواب ایسے ہوتے ہیں کہ حالت بیداری میں آدمی جس طرح کی باتیں سوچتا رہتا ہے، وہی سب خواب میں بھی دیکھتا ہے اور ایک وہ خواب ہے جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ابو عبیداللہ مسلم بن مشکم کہتے ہیں کہ میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3907]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں: بعض خواب ڈراؤنے ہوتے ہیں، (وہ) شیطان کی طرف سے انسان کو پریشان کرنے کے لیے (ہوتے ہیں)، بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انسان بیداری کی حالت میں جو کچھ سوچتا رہتا ہے، وہی کچھ خواب میں نظر آ جاتا ہے اور بعض (خواب) وہ ہیں جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔ حضرت مسلم بن مشکم رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (براہ راست) سنی ہے؟ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10916، ومصباح الزجاجة: 1367) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں