🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ: الْوَرَعِ وَالتَّقْوَى
باب: ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4215
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ , وَعَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ , حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ الْبَأْسُ".
عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ جو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی مضائقہ نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے جس میں برائی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4215]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عطیہ (بن عروہ) سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ تقویٰ کے (بلند) مقام تک نہیں پہنچتا حتیٰ کہ حرج والی چیز سے بچنے کے لیے وہ چیز بھی چھوڑ دے جس میں حرج نہیں (لیکن شک ہے کہ شاید منع ہو)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 19 (2451)، (تحفة الأشراف: 9902) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی ہے، اور حافظ نے صحیح الاسناد کہا ہے، سند میں عبداللہ بن یزید مجہول راوی ہیں، جن کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، اور ان کی مجہول کی توثیق کو علماء نے قبول نہیں کیا ہے، اس لئے یہ سند ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4216
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ" , قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ , فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ , قَالَ:" هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ , لَا إِثْمَ فِيهِ , وَلَا بَغْيَ , وَلَا غِلَّ , وَلَا حَسَدَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر صاف دل، زبان کا سچا“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4216]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کون سا آدمی افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر صاف دل والا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”سچی زبان والا تو ہم جانتے ہیں، صاف دل والا کون ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرہیزگار، پاک باز جس (کے دل) میں نہ کوئی گناہ ہو، نہ زیادتی، نہ کینہ اور نہ حسد۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8939، ومصباح الزجاجة: 1504) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 570)
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4217
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ , عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , كُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ , وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ , وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا , وَأَحْسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا , وَأَقِلَّ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے، قانع بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن ہو جاؤ گے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، مسلمان ہو جاؤ گے، اور کم ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4217]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! متقی ہو جا، تو سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزار ہو جائے گا، قناعت پسند بن جا تو سب سے زیادہ شکر گزار ہو جائے گا۔ لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، تو مومن بن جائے گا۔ اپنے ہمسائے کے ساتھ ہمسائیگی کا اچھا تعلق رکھ تو مسلم بن جائے گا اور ہنسنا کم کر دے کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14805، ومصباح الزجاجة: 1505)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد 2 (2305) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
أبو رجاء محرز بن عبدالله الجزرى مدلس وعنعن (طبقات المدلسين:3/104) وباقى السند ضعيف أيضًا وللحديث شواهد ضعيفة عند الترمذي (2305) وغيره ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4218
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ الْمَاضِي بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ , وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ , وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے، اور (حرام سے) رک جانے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں ہے، اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عالیٰ نسبی (حسب و نسب والا ہونا) نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4218]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تدبیر جیسی کوئی عقل مندی نہیں، (حرام وغیرہ سے) پرہیز جیسا کوئی تقویٰ نہیں اور حسنِ خلق جیسا کوئی حسب نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11937، ومصباح الزجاجة: 1506) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں قاسم بن محمد اور ماضی بن محمد دونوں راوی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
الماضي بن محمد الغافقي : ضعيف وشيخه علي بن سليمان : مجهول (تق:6423 ، 4740) وللحديث شواهد ضعيفة جدًا ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4219
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عالیٰ نسبی (اچھے حسب و نسب والا ہونا) مال ہے، اور کرم (جود و سخا اور فیاضی) تقویٰ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4219]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسب مال ہے اور شرف تقویٰ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 49 (3271)، (تحفة الأشراف: 4598)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/10) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / ت+3271

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4220
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقيْرٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً , وَقَالَ عُثْمَانُ: آيَةً , لَوْ أَخَذَ النَّاسُ كُلُّهُمْ بِهَا لَكَفَتْهُمْ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيَّةُ آيَةٍ؟ قَالَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، (راوی عثمان بن ابی شیبہ نے کلمہ کی جگہ ”آیت ”کہا) اگر تمام لوگ اس کو اختیار کر لیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی آیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ”اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا“ (سورۃ الطلاق: ۲ - ۳)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4220]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک فرمان (اور عثمان راوی نے کہا: مجھے ایک آیت) معلوم ہے، اگر سب لوگ اس پر عمل کر لیں تو ان کے لیے کافی ہو جائے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی آیت؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ [سورة الطلاق: 2] ”جو کوئی اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے (ہر مشکل سے) نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11925، ومصباح الزجاجة: 1507)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/178، سنن الدارمی/الرقاق 17 (2767) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابوالسلیل کی ملاقات ابوذر رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
أعله البوصيري بالإنقطاع لأن أبا السليل أرسل عن أبي ذر رضي الله عنه كما في تهذيب التهذيب (401/4)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں