پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : الورع والتقوى
باب: ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4216
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ" , قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ , فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ , قَالَ:" هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ , لَا إِثْمَ فِيهِ , وَلَا بَغْيَ , وَلَا غِلَّ , وَلَا حَسَدَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر صاف دل، زبان کا سچا“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4216]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کون سا آدمی افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر صاف دل والا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”سچی زبان والا تو ہم جانتے ہیں، صاف دل والا کون ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرہیزگار، پاک باز جس (کے دل) میں نہ کوئی گناہ ہو، نہ زیادتی، نہ کینہ اور نہ حسد۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8939، ومصباح الزجاجة: 1504) (صحیح)» (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 570)
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4216
| أي الناس أفضل قال كل مخموم القلب صدوق اللسان قالوا صدوق اللسان نعرفه فما مخموم القلب قال هو التقي النقي لا إثم فيه ولا بغي ولا غل ولا حسد |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4216 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4216
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دل کی صفائی اور پاکیزگی آخرت میں نجات کا باعث ہے۔
(2)
متقی آدمی دوسروں سے افضل ہے۔
(3)
کینے کا مطلب ہے دل میں ناراضی رکھنا تاکہ موقع ملنے پر بدلہ لیا جاسکے۔
یہ بہت ہی بری عادت ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
دل کی صفائی اور پاکیزگی آخرت میں نجات کا باعث ہے۔
(2)
متقی آدمی دوسروں سے افضل ہے۔
(3)
کینے کا مطلب ہے دل میں ناراضی رکھنا تاکہ موقع ملنے پر بدلہ لیا جاسکے۔
یہ بہت ہی بری عادت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4216]
Sunan Ibn Majah Hadith 4216 in Urdu
مغيث بن سمي الأوزاعي ← عبد الله بن عمرو السهمي