سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ، عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 20
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ بِمِصْرَ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا".
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 20]
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو شہر مصر میں یہ کہتے سنا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ ان بیت الخلاؤں کو کیا کروں (جو کہ قبلے رخ بنے ہوئے ہیں) حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی بول و براز کے لیے جائے، تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ۔“” [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 20]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 5/414، 419، (تحفة الأشراف: 3458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح وله شواهد كثيرة