🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

94. بَابُ مَوْتِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ:
باب: پیر کے دن مرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ:" فِي كَمْ كَفَّنْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , قَالَتْ: فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ، وَقَالَ لَهَا: فِي أَيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , قَالَتْ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ , قَالَتْ: يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبٍ عَلَيْهِ كَانَ يُمَرَّضُ فِيهِ بِهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: اغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَزِيدُوا عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِيهَا، قُلْتُ: إِنَّ هَذَا خَلَقٌ، قَالَ: إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ، فَلَمْ يُتَوَفَّ حَتَّى أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ الثُّلَاثَاءِ، وَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں (والد ماجد) ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں (ان کی مرض الموت میں) حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم لوگوں نے کتنے کپڑوں کا کفن دیا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تین سفید دھلے ہوئے کپڑوں کا۔ آپ کو کفن میں قمیض اور عمامہ نہیں دیا گیا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ پیر کے دن۔ پھر پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا آج پیر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر مجھے بھی امید ہے کہ اب سے رات تک میں بھی رخصت ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد آپ نے اپنا کپڑا دیکھا جسے مرض کے دوران میں آپ پہن رہے تھے۔ اس کپڑے پر زعفران کا دھبہ لگا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا میرے اس کپڑے کو دھو لینا اور اس کے ساتھ دو اور ملا لینا پھر مجھے کفن انہیں کا دینا۔ میں نے کہا کہ یہ تو پرانا ہے۔ فرمایا کہ زندہ آدمی نئے (کپڑے) کا مردے سے زیادہ مستحق ہے ‘ یہ تو پیپ اور خون کی نذر ہو جائے گا۔ پھر منگل کی رات کا کچھ حصہ گزرنے پر آپ کا انتقال ہوا اور صبح ہونے سے پہلے آپ کو دفن کیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1387]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا: تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے جواب دیا: تین سحولی چادروں میں، جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ ہی تھا۔ پھر انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس روز وفات پائی تھی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پیر کے دن۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آج پیر کا دن ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت سے لے کر رات تک وفات پا جاؤں گا۔ پھر انہوں نے اپنے کپڑے کی طرف دیکھا جس میں وہ بیمار ہوئے تھے اور اس میں ایک زعفران کا نشان تھا، آپ نے فرمایا کہ میرے اسی کپڑے کو دھو ڈالو، اسی پر دو چادروں کا اضافہ کر دو اور ان میں مجھے کفن دینا، میں نے کہا: یہ کپڑا تو پرانا ہے۔ انہوں نے فرمایا: زندہ آدمی نئے کپڑوں کا مردے سے زیادہ حقدار ہے، کیونکہ آخر کار کفن تو پیپ کی نذر ہونے والا ہے۔ پھر منگل کی رات انہوں نے وفات پائی اور صبح سے پہلے پہلے دفن کر دیے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1387]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں