سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ: سُؤْرِ الْكَلْبِ
باب: کتے کے جھوٹے کا بیان۔
حدیث نمبر: 63
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے پی لے، تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 63]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا تمہارے برتن میں پی لے تو اسے سات مرتبہ دھونا چاہیے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 63]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 33 (172)، صحیح مسلم/الطہارة 27 (279)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 68 (91)، سنن ابن ماجہ/فیہ 31 (364)، موطا امام مالک/فیہ 6 (35)، (تحفة الأشراف: 13799)، مسند احمد 2/245، 265، 271، 314، 360، 398، 424، 427، 460، 480، 482، 508، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 33، 339، 340 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح روایتوں سے سات بار ہی دھونا ثابت ہے، تین بار دھونے کی روایت صحیح نہیں ہے، بعض لوگوں نے اسے بھی دیگر نجاستوں پر قیاس کیا ہے، اور کہا ہے کہ کتے کی نجاست بھی تین بار دھونے سے پاک ہو جائے گی لیکن اس قیاس سے نص کی یا ضعیف حدیث سے صحیح حدیث کی مخالفت ہے، جو درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 64
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے“۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 64]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا تم میں سے کسی کا برتن چاٹ جائے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 64]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 2/271، (تحفة الأشراف: 12230) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 65
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أَسَامَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 65]
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 65]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 2/271، (تحفة الأشراف: 15352) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح