سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. بَابُ: صِفَةِ الْوُضُوءِ - غَسْلُ الْكَفَّيْنِ
باب: دونوں ہتھیلی دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 82
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ، حَتَّى رَدَّهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، قال ابْنُ عَوْنٍ: وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ ذَا مِنْ حَدِيثِ ذَا، أَنَّ الْمُغِيرَةَ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَرَعَ ظَهْرِي بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَرْضِ فَأَنَاخَ ثُمَّ انْطَلَقَ، قَالَ: فَذَهَبَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟ وَمَعِي سَطِيحَةٌ لِي، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَذَكَرَ مِنْ نَاصِيَتِهِ شَيْئًا وَعِمَامَتِهِ شَيْئًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: لَا أَحْفَظُ كَمَا أُرِيدُ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَالَ: حَاجَتَكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَتْ لِي حَاجَةٌ، فَجِئْنَا وَقَدْ أَمَّ النَّاسَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَا".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نے میری پیٹھ پر ایک چھڑی لگائی ۱؎ اور آپ مڑے تو میں بھی آپ کے ساتھ مڑ گیا، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی جگہ پر آئے جو ایسی ایسی تھی، اور اونٹ کو بٹھایا پھر آپ چلے، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، پھر آپ (واپس) آئے، اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میرے پاس میری ایک چھاگل تھی، اسے لے کر میں آپ کے پاس آیا، اور آپ پر انڈیلا، تو آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، چہرہ دھویا، اور دونوں بازو دھونے چلے، تو آپ ایک تنگ آستین کا شامی جبہ پہنے ہوئے ہوئے تھے (آستین چڑھ نہ سکی) تو اپنا ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالا، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے - مغیرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی پیشانی کے کچھ حصے اور عمامہ کے کچھ حصے کا ذکر کیا، ابن عون کہتے ہیں: میں جس طرح چاہتا تھا اس طرح مجھے یاد نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: ”اب تو اپنی ضرورت پوری کر لے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حاجت نہیں، تو ہم آئے دیکھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور وہ نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، تو میں بڑھا کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرما دیا، چنانچہ ہم نے جو نماز پائی اسے پڑھ لیا، اور جو حصہ فوت ہو گیا تھا اسے (بعد میں) پورا کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 82]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے (متوجہ کرنے کے لیے) اپنی چھڑی میری پشت سے لگائی، پھر آپ ایک طرف کو چلے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلا حتیٰ کہ آپ ایک (مناسب) جگہ پہنچے۔ آپ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور پیدل چل دیے حتیٰ کہ مجھ سے اوجھل ہوگئے۔ پھر واپس تشریف لائے اور فرمایا: ”تیرے پاس پانی ہے؟“ میرے پاس میرا مشکیزہ تھا۔ میں وہ آپ کے پاس لے آیا اور میں نے پانی ڈالنا شروع کیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا۔ بازو دھونے لگے تو آپ پر تنگ آستینوں والا شامی جبہ تھا۔ آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا۔ اس طرح اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور اپنے کچھ سر (پیشانی) اور باقی پگڑی پر مسح کیا۔ ابن عون نے کہا: ”جس طرح میں چاہتا ہوں مجھے اس طرح یاد نہیں ہے۔“ پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ”تو بھی قضائے حاجت کرلے۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے حاجت نہیں ہے۔“ پھر ہم (قافلے کے پاس) آئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ لوگوں کے آگے کھڑے امامت کرا رہے تھے اور صبح کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ میں نے انھیں اطلاع دینا چاہی، مگر آپ نے مجھے روک دیا۔ جو نماز ہم نے (جماعت کے ساتھ) پائی پڑھ لی اور جو گزر چکی تھی، اسے (بعد میں) ادا کرلیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 82]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 79 (تحفة الأشراف: 11514) (صحیح) (بخاری کی روایت میں ’’ناصیہ‘‘ اور ’’عمامہ‘‘ کا ذکر نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہاں مار سے تیز مار مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ پیٹھ میں چھڑی کونچی یہ بتانے کے لیے کہ ادھر مڑنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق لكن ليس عند خ ذكر الناصية والعمامة
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه