🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. بَابُ: عَدَدِ غَسْلِ الْوَجْهِ
باب: چہرہ کتنی بار دھوئے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ" دَعَا بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَأَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأَشَارَ شُعْبَةُ مَرَّةً مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَدْرِي أَرَدَّهُمَا أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طُهُورُهُ. وقَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ لَيْسَ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا، (شعبہ - جو حدیث کے راوی ہیں - نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا، پھر کہا: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو (گدی سے پیشانی تک) واپس لائے یا نہیں؟) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 93]
حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کرسی لائی گئی، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر پانی کا ایک تھال منگوایا، آپ نے اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، یہ تین بار کیا، اور اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور اپنے بازو تین تین دفعہ دھوئے، پھر کچھ پانی لیا اور سر کا مسح کیا، شعبہ نے ایک بار پیشانی سے لے کر سر کے مؤخر تک اشارہ کیا، پھر کہا: ”مجھے معلوم نہیں کہ پھر (ہاتھوں کو) لوٹایا تھا یا نہیں۔“ اور تین تین دفعہ اپنے پاؤں دھوئے، پھر فرمایا: ”جو شخص پسند کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو وہ جان لے کہ یہ آپ کا وضو ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ (نسائی) لکھتے ہیں: ”(سند میں) یہ غلطی ہے، صحیح نام خالد بن علقمہ ہے نہ کہ مالک بن عرفطہ۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 93]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 91، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں