سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. بَابُ: مَسْحِ الْمَرْأَةِ رَأْسَهَا
باب: عورت اپنے سر کا مسح کیسے کرے۔
حدیث نمبر: 100
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُنَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَالِمٌ سَبَلَانُ، قال: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَعْجِبُ بِأَمَانَتِهِ وَتَسْتَأْجِرُهُ، فَأَرَتْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ" فَتَمَضْمَضَتْ وَاسْتَنْثَرَتْ ثَلَاثًا، وَغَسَلَتْ وَجْهَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَتْ يَدَهَا الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَوَضَعَتْ يَدَهَا فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهَا ثُمَّ مَسَحَتْ رَأْسَهَا مَسْحَةً وَاحِدَةً إِلَى مُؤَخِّرِهِ، ثُمَّ أَمَرَّتْ يَديْهَا بِأُذُنَيْهَا، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْخَدَّيْنِ". قَالَ سَالِمٌ: كُنْتُ آتِيهَا مُكَاتَبًا مَا تَخْتَفِي مِنِّي فَتَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيَّ وَتَتَحَدَّثُ مَعِي حَتَّى جِئْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ، فَقُلْتُ: ادْعِي لِي بِالْبَرَكَةِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: أَعْتَقَنِي اللَّهُ، قَالَتْ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَأَرْخَتِ الْحِجَابَ دُونِي فَلَمْ أَرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب (غلام) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 100]
حضرت ابو عبداللہ سالم سبلان رحمہ اللہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت داری سے بہت خوش تھیں اور ان سے اجرت پر کام کروایا کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ ”مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دکھلایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑا اور اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا، پھر اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ (بازو) تین تین دفعہ دھویا، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہاتھ سر کے اگلے حصہ پر رکھا اور پیچھے تک پورے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے کانوں پر پھیرے، پھر رخساروں پر پھیرے۔“ سالم رحمہ اللہ نے کہا: ”میں جب مکاتب تھا تو آپ کے پاس آیا کرتا تھا، وہ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں بلکہ میرے سامنے بیٹھ کر مجھ سے باتیں کیا کرتی تھیں حتیٰ کہ میں ایک دن ان کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے ام المومنین! میرے لیے برکت کی دعا فرمائیے۔ وہ کہنے لگیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آزاد فرما دیا ہے۔ وہ کہنے لگیں: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے برکت فرمائے۔ اس کے بعد پردہ لٹکا لیا اور اس دن کے بعد میں نے انہیں نہیں دیکھا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16093) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن