سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. بَابُ: الْفَضْلِ فِي ذَلِكَ
باب: کامل وضو کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 143
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 143]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان چیزوں کی خبر نہ دوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ غلطیاں مٹاتا اور درجات بلند فرماتا ہے؟“ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟“) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشقت اور نا چاہتے ہوئے وضو مکمل اور اچھی طرح کرنا، مسجد کی طرف دور سے چل کر جانا اور نماز کے بعد اگلی نماز کا (مسجد میں بیٹھ کر) انتظار کرنا۔ یہ ہے «الرِّبَاطُ» ”رباط“، یہ ہے «الرِّبَاطُ» ”رباط“، یہ ہے «الرِّبَاطُ» ”رباط“۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 14 (251)، سنن الترمذی/فیہ 39 (51)، (تحفة الأشراف: 14087)، موطا امام مالک/ السفر 18 (55)، مسند احمد 2/277، 303 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا» (آل عمران: 200) میں جس کا حکم دیا گیا ہے اس سے یہی مراد ہے، بلکہ اس سے نفس اور بدن کو طاعات سے مربوط کرنا ہے، یا اس سے مراد افضل عمل ہے، یعنی یہ اعمال جہاد کی طرح ہیں جن کے ذریعہ انسان اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو زیر کرتا ہے، اس وجہ سے اسے «رباط» کہا گیا ہے جس کے معنی سرحد کی حفاظت و نگہبانی کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم