سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. بَابُ: الْمَضْمَضَةِ مِنَ اللَّبَنِ
باب: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 187
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" شَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی مانگا اور کلی کی، پھر فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 187]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی منگوایا اور کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 52 (211)، الأشربة 12 (5609)، صحیح مسلم/الحیض 24 (358)، سنن ابی داود/الطھارة 77 (196)، سنن الترمذی/الطھارة 66 (89)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 68 (498)، (تحفة الأشراف: 5833)، مسند احمد 1/223، 227، 329، 337، 373 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه