سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. بَابُ: الْمَضْمَضَةِ مِنَ السَّوِيقِ
باب: ستو کھا کر کلی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 186
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ" صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا (جو خیبر سے قریب ہے) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 186]
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ (سوید) غزوۂ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب لشکر صہباء میں پہنچا، اور وہ خیبر سے قریب ترین علاقہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اپنا زادِ راہ لانے کا حکم دیا تو صرف ستو ہی لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ستو پانی میں بھگوئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائے اور ہم نے بھی کھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کلی کی اور ہم نے بھی کلی ہی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 51 (209)، 54 (215)، الجھاد 123 (2981)، المغازي 38 (4195)، الأطعمة 7 (5384)، 9 (5390)، 51 (5455)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (492)، (تحفة الأشراف: 4813)، موطا امام مالک/فیہ 5 (20)، مسند احمد 3/462، 488 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري