سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. بَابُ: ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لاَ يُوجِبُهُ - غُسْلُ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ
باب: کافر جب اسلام لائے تو اس کے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 188
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَغَرِّ وَهوَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اسلام لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 188]
حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ مسلمان ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کریں۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 131 (355)، سنن الترمذی/الصلاة 303 (605)، (تحفة الأشراف: 11100)، مسند احمد 5/61 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ غسل کفر کی گندگی کے ازالہ اور نجاست کے احتمال کے دفعیہ کے لیے ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے اور بعض کے نزدیک وجوبی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح