سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. بَابُ: الاِغْتِسَالِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ
باب: رات کے ابتدائی اور آخری حصہ میں غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 224
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا، قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ"، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصہ میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں وقتوں میں کرتے تھے، کبھی رات کے شروع میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخر میں، میں نے کہا: شکر ہے اس اللہ رب العزت کا جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 224]
غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: ”کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رات کے شروع میں غسل فرمایا کرتے تھے یا رات کے آخر میں؟“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”دونوں وقت، کبھی رات کے شروع ہی میں غسل فرما لیتے اور کبھی آخر رات کو غسل فرماتے۔“ میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”ہر تعریف اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن