سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
157. بَابُ: تَخْلِيلِ الْجُنُبِ رَأْسَهُ
باب: جنبی کے اپنے سر کا خلال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 249
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّهُ كَانَ" يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ (پانی) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 249]
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کی بابت بیان کیا کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سب سے پہلے) اپنے ہاتھ دھوتے تھے اور وضو فرماتے اور اپنے سر کے بالوں میں (گیلی) انگلیاں پھیرتے تھے (حتیٰ کہ بال گیلے ہو جاتے)، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17331)، مسند احمد 6/52، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 9 (316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يُشَرِّبُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو پانی پلاتے تھے یعنی سر کا خلال کرتے تھے، پھر اس پر تین لپ پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 250]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) اپنے سر کے بالوں کو خلال سے اچھی طرح تر کر لیتے تھے، پھر سر پر تین چلو (پانی) ڈالتے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16937)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 76 (104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح